تاریخی مقامات
مسجد الخیف
مکہ
منیٰ کے جنوبی سرے پر جمرۃ الصغریٰ کے قریب پہاڑ کے دامن میں واقع مسجد۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں قیام کے دوران یہاں نماز ادا کی، اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ سے پہلے بہت سے انبیاء نے بھی اس مقام پر نماز پڑھی ہے۔ لفظ ”خیف“ کے معنی پہاڑ کی ڈھلوان یا نشیبی جگہ کے ہیں، اور یہ نام مسجد کے محلِ وقوع ہی سے ماخوذ ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں مسجد کی مرمت اور تعمیرِ نو کی گئی ہے۔ موجودہ عمارت سعودی دور میں تعمیر کی گئی، اس کا رقبہ تقریباً پچیس ہزار مربع میٹر ہے اور اس میں بیک وقت ہزاروں نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ حج کے دنوں میں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ سال کے باقی حصے میں یہ عموماً بند رہتی ہے۔
مکہ کے مزید مقامات

عرفات اور مسجدِ نمرہ
مکہ کے مشرق میں واقع ایک وسیع میدان، جہاں 9 ذوالحجہ کو حجاج قیام کرتے ہیں۔ یہی وقوف حج کا بنیادی رکن ہے۔ میدان کے مغربی کنارے پر مسجدِ نمرہ واقع ہے۔
جمرات
منیٰ میں واقع تین ستون، جہاں حجاج کرام کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ حج کا ایک واجب عمل ہے، جو ابراہیم (علیہ السلام) کی یاد سے منسلک ہے۔
مزدلفہ اور مشعر الحرام
عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع کھلا علاقہ، جہاں 9 ذوالحجہ کی رات حاجی قیام کرتے ہیں۔ یہاں کے پہاڑ کا نام مشعر الحرام ہے۔
منیٰ - خیموں کا شہر
مکہ اور مزدلفہ کے درمیان واقع وادی، جہاں حج کے دنوں میں حاجی قیام کرتے ہیں۔ جمرات، قربانی اور تشریق کی راتوں کا مرکز یہی مقام ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی جائے پیدائش (روایات پر مبنی)
مسجد الحرام کے قریب شعبِ بنو ہاشم کے علاقے میں واقع وہ مقام، جہاں روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تھی۔ اب وہاں ایک کتب خانہ ہے۔
جبلِ ثور اور غارِ ثور
مکہ کے جنوب میں واقع بلند و عمودی جبلِ ثور کے دامن میں چھپا ہوا ایک چھوٹا سا غار۔ ہجرت کے وقت رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے یہاں تین راتیں پناہ لی تھی۔