تاریخی مقامات
عرفات اور مسجدِ نمرہ
مکہ
مسجد الحرام سے تقریباً بیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک وسیع ہموار میدان، جو حدودِ حرم سے باہر ہے۔ 9 ذوالحجہ کو زوالِ آفتاب کے بعد سے غروبِ آفتاب تک یہاں قیام کرنا حج کا بنیادی رکن ہے؛ حدیث میں آیا ہے کہ حج عرفات ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اس میدان میں تاریخی خطبہ دیا تھا۔ میدان کے مشرقی جانب جبل الرحمہ نامی ایک چھوٹی پہاڑی ہے۔ مغربی کنارے پر مسجدِ نمرہ واقع ہے، جہاں 9 ذوالحجہ کو حج کا خطبہ دیا جاتا ہے اور ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں؛ مسجد کا مغربی حصہ حدودِ عرفات سے باہر ہونے کی وجہ سے وہاں وقوف معتبر نہیں ہوتا۔ سال کے باقی عرصے میں پورا علاقہ تقریباً غیر آباد رہتا ہے۔
مکہ کے مزید مقامات

مزدلفہ اور مشعر الحرام
عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع کھلا علاقہ، جہاں 9 ذوالحجہ کی رات حاجی قیام کرتے ہیں۔ یہاں کے پہاڑ کا نام مشعر الحرام ہے۔
مسجد الخیف
منیٰ کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد، جمرۃ الصغریٰ کے قریب واقع ہے۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے یہاں نماز ادا کی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کی جائے پیدائش (روایات پر مبنی)
مسجد الحرام کے قریب شعبِ بنو ہاشم کے علاقے میں واقع وہ مقام، جہاں روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تھی۔ اب وہاں ایک کتب خانہ ہے۔
جمرات
منیٰ میں واقع تین ستون، جہاں حجاج کرام کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ حج کا ایک واجب عمل ہے، جو ابراہیم (علیہ السلام) کی یاد سے منسلک ہے۔
حدیبیہ
مکہ کے مغرب میں حدودِ حرم کے قریب واقع وہ علاقہ، جہاں چھ ہجری میں قریش کے ساتھ صلحِ حدیبیہ اور بیعتِ رضوان واقع ہوئی۔
منیٰ - خیموں کا شہر
مکہ اور مزدلفہ کے درمیان واقع وادی، جہاں حج کے دنوں میں حاجی قیام کرتے ہیں۔ جمرات، قربانی اور تشریق کی راتوں کا مرکز یہی مقام ہے۔