تاریخی مقامات
حدیبیہ
مکہ
مسجد الحرام سے تقریباً بائیس کلومیٹر مغرب میں جدہ کے راستے پر واقع ایک علاقہ، جو آج کل الشمیسی کے نام سے معروف ہے۔ چھ ہجری میں رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ عمرہ کی غرض سے روانہ ہوئے تو قریش نے انہیں مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور یہیں سفر رک گیا۔ اس موقع پر ایک درخت کے نیچے صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر جو بیعت کی، وہ بیعتِ رضوان کے نام سے معروف ہے؛ قرآن کی سورۂ فتح میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس کے بعد قریش کے ساتھ جو معاہدہ ہوا، وہ صلح حدیبیہ کے نام سے تاریخ میں مشہور ہوا—جس نے بعد میں فتح مکہ کی راہ ہموار کی۔ فی الحال یہ علاقہ مکہ میں داخل ہونے والوں کے لیے ایک میقات بھی ہے۔
Photo credit: Hajj & Umrah Planner website
مکہ کے مزید مقامات

صفا و مروہ
مسجد الحرام کے اندر واقع دو چھوٹی پہاڑیاں، جن کے درمیان سات مرتبہ آنا جانا سعی کہلاتا ہے—یہ حج اور عمرہ کا ایک رکن ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی جائے پیدائش (روایات پر مبنی)
مسجد الحرام کے قریب شعبِ بنو ہاشم کے علاقے میں واقع وہ مقام، جہاں روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تھی۔ اب وہاں ایک کتب خانہ ہے۔
مزدلفہ اور مشعر الحرام
عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع کھلا علاقہ، جہاں 9 ذوالحجہ کی رات حاجی قیام کرتے ہیں۔ یہاں کے پہاڑ کا نام مشعر الحرام ہے۔
عرفات اور مسجدِ نمرہ
مکہ کے مشرق میں واقع ایک وسیع میدان، جہاں 9 ذوالحجہ کو حجاج قیام کرتے ہیں۔ یہی وقوف حج کا بنیادی رکن ہے۔ میدان کے مغربی کنارے پر مسجدِ نمرہ واقع ہے۔
مسجد الخیف
منیٰ کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد، جمرۃ الصغریٰ کے قریب واقع ہے۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے یہاں نماز ادا کی تھی۔
جمرات
منیٰ میں واقع تین ستون، جہاں حجاج کرام کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ حج کا ایک واجب عمل ہے، جو ابراہیم (علیہ السلام) کی یاد سے منسلک ہے۔