تاریخی مقامات
صفا و مروہ
مکہ
مسجد الحرام کے اندر واقع دو چھوٹی پہاڑیاں، جن کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سو میٹر طویل راستے کو مسعیٰ کہا جاتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ ہاجرہ علیہا السلام شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ دوڑی تھیں—اسی کی یاد میں حجاج اور عمرہ کرنے والے صفا سے آغاز کرکے مروہ تک جاتے ہوئے سات چکر مکمل کرتے ہیں، جسے سعی کہا جاتا ہے۔ قرآن کی سورۂ بقرہ میں صفا اور مروہ کو اللہ کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ توسیع کے نتیجے میں اب دونوں پہاڑیوں کے کچھ حصے مسجد کی چھت کے نیچے آ گئے ہیں، تاہم اصل چٹانیں محفوظ ہیں۔ مسعیٰ اب کئی منزلہ اور ایئر کنڈیشنڈ ہے، نیز وہیل چیئر اور برقی گاڑیوں کے لیے الگ راستے موجود ہیں۔
مکہ کے مزید مقامات

حدیبیہ
مکہ کے مغرب میں حدودِ حرم کے قریب واقع وہ علاقہ، جہاں چھ ہجری میں قریش کے ساتھ صلحِ حدیبیہ اور بیعتِ رضوان واقع ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ کی جائے پیدائش (روایات پر مبنی)
مسجد الحرام کے قریب شعبِ بنو ہاشم کے علاقے میں واقع وہ مقام، جہاں روایتی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی تھی۔ اب وہاں ایک کتب خانہ ہے۔
مزدلفہ اور مشعر الحرام
عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع کھلا علاقہ، جہاں 9 ذوالحجہ کی رات حاجی قیام کرتے ہیں۔ یہاں کے پہاڑ کا نام مشعر الحرام ہے۔
عرفات اور مسجدِ نمرہ
مکہ کے مشرق میں واقع ایک وسیع میدان، جہاں 9 ذوالحجہ کو حجاج قیام کرتے ہیں۔ یہی وقوف حج کا بنیادی رکن ہے۔ میدان کے مغربی کنارے پر مسجدِ نمرہ واقع ہے۔
مسجد الخیف
منیٰ کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد، جمرۃ الصغریٰ کے قریب واقع ہے۔ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے یہاں نماز ادا کی تھی۔
جمرات
منیٰ میں واقع تین ستون، جہاں حجاج کرام کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ حج کا ایک واجب عمل ہے، جو ابراہیم (علیہ السلام) کی یاد سے منسلک ہے۔