براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج کا اختتام

باب کے صفحات

باب 11 از 12

حج کا اختتام

حج کا اختتام

2 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 11 ستمبر، 2026

حاجی صاحب حج کے اعمال مکمل کرنے کے بعد کثرت سے ذکر و استغفار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،

﴿ ثُمَّ أَفِيضُواْ مِنۡ حَيۡثُ أَفَاضَ ٱلنَّاسُ وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٩٩ فَإِذَا قَضَيۡتُم مَّنَٰسِكَكُمۡ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَذِكۡرِكُمۡ ءَابَآءَكُمۡ أَوۡ أَشَدَّ ذِكۡرٗاۗ فَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖ ٢٠٠ وَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ٢٠١ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ نَصِيبٞ مِّمَّا كَسَبُواْۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٢٠٢ ﴾ [البقرة: ١٩٩، ٢٠٢]

’پھر تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے مغفرت طلب کرو۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ پھر جب تم اپنے حج کے اعمال پورے کر چکو تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو۔ اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا ہی میں عطا فرما دے۔ درحقیقت آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ انہوں نے جو کچھ کمایا ہے، اس میں ان کا حصہ ہے۔ اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے‘۔[1]

وطن واپس جاتے وقت سفر کے آداب اور دعاؤں پر عمل کریں گے۔ ہم سفروں اور اہل و عیال کے ساتھ مہربان اور عمدہ سلوک کریں گے۔ اگر ان کا دستور یہ ہو کہ وہاں تحفہ لے جانا ہوتا ہے تو ان کی دل جوئی کے لیے تحفہ لے جائیں گے۔

حاجی صاحبان کے لیے مدینہ شریف کی زیارت کرنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ مدینہ کی زیارت ایک مستقل سنت ہے۔ حج کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حج کے بیان کے ساتھ اس کا ذکر اس لیے کیا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ بہت دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔ دونوں جگہوں کے سفر کی غرض سے الگ الگ دو مرتبہ آنا دشوار ہونے کی وجہ سے وہ ایک ہی ساتھ دونوں جگہوں کا سفر کر لیتے ہیں۔

حاجی صاحبان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ پختہ ایمان، نئے عزم و شعور اور بہت زیادہ اطاعت، عبادت اور عمدہ اخلاق کے ساتھ واپس آئیں۔ کیونکہ حج کے ذریعے گویا ان کی نئی پیدائش ہوتی ہے۔ (اے اللہ! تو ہمیں قبول فرما۔ بے شک تو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے، ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔)

[1]. (البقرۃ: ۱۹۹-۲۰۲)