متعجل یا جلد روانہ ہونے والے حجاج 12 ذوالحجہ کو اور متاخر یا دیر سے روانہ ہونے والے حجاج 13 ذوالحجہ کو کنکریاں مارنے کا عمل مکمل کریں گے۔ اسی وقت ان کے حج کے اعمال ختم ہو جائیں گے۔ تاہم اگر وہ مکہ کے باشندے نہ ہوں تو طوافِ وداع کیے بغیر ان کے لیے مکہ سے نکلنا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ باہر سے آنے والوں کے لیے حج کا طوافِ وداع واجب ہے۔
طوافِ وداع کا طریقہ
طوافِ وداع دوسرے طواف کی طرح ہی ہے۔ البتہ یہ طواف عام لباس پہن کر کیا جاتا ہے۔ طواف حجرِ اسود سے شروع کرنا ہوتا ہے۔ اس کے سات چکروں میں نہ رمل ہے اور نہ اضطباع۔ طواف مکمل کرنے کے بعد طواف کی دو رکعت نماز ادا کرنی ہوگی۔ اگر مقامِ ابراہیم کے سامنے ممکن نہ ہو تو حرم میں کسی بھی جگہ ادا کریں۔ اس طواف کے بعد کوئی سعی نہیں ہے۔
طوافِ وداع سے متعلق بعض مسائل
یہ طواف حرم شریف کو الوداع کہنے کے لیے وداعی سلام کی مانند ہے۔ لہٰذا بیت اللہ سے متعلق اس کا آخری عمل یہی طواف مکمل کرنا ہوگا۔ حدیث میں آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ».
’تم میں سے کوئی شخص بیت اللہ کا طواف اپنا آخری عمل بنائے بغیر مکہ سے روانہ نہ ہو۔‘[1]
اسی طرح عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
«أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ».
’لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ بیت اللہ سے متعلق ان کا آخری عمل طواف ہو، البتہ حیض والی خواتین کے لیے اس میں رخصت دی گئی ہے۔‘[2]
لیکن حیض والی وہ خواتین جو طوافِ زیارت مکمل کر چکی ہوں، اگر ان کے لیے ممکن ہو تو پاک ہونے تک انتظار کریں گی اور پاکی حاصل ہونے کے بعد طوافِ وداع کریں گی۔ یہی بہتر ہے۔ بصورتِ دیگر ان سے یہ طواف ساقط ہو جائے گا، کیونکہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ جانے پر آپ نے پوچھا: کیا اس نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’تو پھر وہ اب جا سکتی ہے۔‘[3]
حجاج کا آخری عمل یہی طواف ہوگا۔ یہ واجب ہے۔ اس کے بعد زیادہ دیر تک مکہ میں قیام نہیں کیا جا سکتا۔ اگر قیام کیا تو دوبارہ طوافِ وداع کرنا ہوگا۔ البتہ اگر تھوڑی دیر قیام کرے، مثلاً کسی ساتھی کا انتظار، کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے انتظار یا تحائف کی خریداری کے لیے انتظار، تو ایسی کسی صورت میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر حاجی نے کسی وجہ سے پہلے طوافِ حج کی سعی نہ کی ہو تو وہ طوافِ وداع کے بعد سعی کرے گا۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا، کیونکہ اسے تھوڑا وقت شمار کیا جاتا ہے۔
[1]۔ مسلم: 1327۔
[2]۔ مسلم: 1328۔
[3]۔ بخاری: 4401؛ مسلم: 1211۔