کام درج ذیل ہیں:
(۱) مکہ پہنچ کر کسی مناسب جگہ پر کچھ آرام کر لینا، تاکہ تھکن دور ہو جائے اور قوت حاصل ہو۔ نیز طواف سے پہلے صاف ستھرا اور پاک ہونا ضروری ہے۔ (بخاری)
(۲) اگر ممکن ہو تو غسل کر لینا مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔ (بخاری) اگر موقع نہ ملے تو غسل نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ تاہم ناپاکی سے پاک ہونا ضرور لازم ہے۔
(۳) اگر آسانی سے ممکن ہو تو بلند علاقے کی جانب سے مکہ میں داخل ہونا بھی مستحب ہے۔ (بخاری) ’’باب السلام‘‘ سے داخل ہونا افضل ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی بھی دروازے سے داخل ہو سکتے ہیں۔
(۴) حرم شریف میں داخل ہوتے وقت بہتر یہ ہے کہ پہلے دایاں پاؤں اندر رکھیں اور درج ذیل دعا پڑھیں:
أَعُوذُ بِاللهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ - اَللَّهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اور مسجد حرام سے نکلتے وقت پڑھیں:
بِسْمِ اللهِ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
یہ دعائیں دنیا کی دیگر تمام مساجد میں بھی پڑھنا سنت ہے۔
(۵) ’’مسجد حرام‘‘ کی تحیۃ طواف کرنا ہے۔ اور اگر طواف کی نیت نہ ہو تو دو رکعت نماز ادا کیے بغیر مسجد میں کبھی نہ بیٹھیں۔ البتہ اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو براہِ راست جماعت میں شامل ہو جائیں۔
(۶) بیمار اور معذور افراد کے لیے چارپائی پر سوار ہو کر طواف یا سعی کرنا جائز ہے۔ (بخاری)
(۷) پہلے طواف کو ’طواف القدوم‘
(طواف القدوم) یا ’طواف العمرہ‘ کہتے ہیں۔