براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج کی فضیلت اور اہمیت

باب کے صفحات

حج کے احکام

3 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 2 اکتوبر، 2026

۱. حج اسلام کے پانچ ارکان یا ستونوں میں سے ایک ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت لوگوں پر فرض کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،

﴿وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩٧ ﴾ [ال عمران: ٩٧]

’اور صاحبِ استطاعت لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔ اور جو کفر کرے تو یقیناً اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔‘[1]

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».

’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؛ نماز قائم کرنا؛ زکوٰۃ ادا کرنا؛ حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘[2]

لہٰذا حج کے فرض ہونے کا حکم قرآن و سنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے۔ اس بارے میں تمام مسلمان متفق ہیں۔

۲. صاحبِ استطاعت شخص پر پوری زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں،

«خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ.فَقَامَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ : أَفِى كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا ، وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا. الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ».

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخاطب کرکے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔“ اس پر اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یقیناً وہ فرض ہو جاتا۔ اور اگر فرض ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کرتے اور نہ ہی تم اس پر عمل کرنے کی استطاعت رکھتے۔ حج ایک مرتبہ فرض ہے۔ جو اس سے زائد ادا کرے گا، وہ نفل ہوگا۔“‘[3]

۳. صاحبِ استطاعت شخص پر بلا تاخیر حج کرنا ضروری ہے۔ ٹال مٹول کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ یہ دراصل محض سستی اور وقت کا ضیاع ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ - يَعْنِي : الْفَرِيضَةَ - فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ».

’فرض حج ادا کرنے میں تاخیر نہ کرو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے آگے کیا مصیبت پیش آ جائے۔‘[4] عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ رِجَالًا إلَى هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَنْظُرُوا كُلَّ مَنْ لَهُ جَدَةٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَيَضْرِبُوا عَلَيْهِ الْجِزْيَةَ مَا هُمْ بِمُسْلِمِينَ مَا هُمْ بِمُسْلِمِينَ.

’میرا ارادہ ہوتا ہے کہ میں ان شہروں میں لوگوں کو بھیجوں تاکہ وہ دیکھیں کہ استطاعت رکھنے کے باوجود کس نے حج نہیں کیا۔ پھر وہ اس پر جزیہ[5] عائد کریں۔ کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں۔‘[6] عمر رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں:

لِيَمُتْ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا- يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّات-ٍ رَجُلٌ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ وَوَجَدَ لِذَلِكَ سَعَةً .

’وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر—انہوں نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی—جو مالی وسعت کے باوجود حج کیے بغیر مر گیا۔‘[7]

[1]. آل عمران: ۹۷۔

[2]. بخاری: ۰۸؛ مسلم: ۶۱۔

[3]. مسند احمد: ۴۰۲۲؛ ابو داؤد: ۱۲۷۱؛ ابن ماجہ: ۶۸۸۲۔

[4]. مسند احمد: ۷۶۸۲؛ ابن ماجہ: ۳۸۸۲۔

[5]. محصول یا ٹیکس۔

[6]. ابن حجر، التلخیص الحبیر: ۲/۲۲۳۔

[7]. بیہقی: ۴/۳۳۴۔