اسلامی عبادات میں حج کی اہمیت بے حد و حساب ہے۔ ایک حدیث کے مطابق حج کو افضل ترین عبادت کہا گیا ہے۔[1] تاہم حج کی یہ اہمیت ظاہری رسوم و اعمال سے زیادہ حج کی روح یا حقیقت سے متعلق ہے۔ حج کی اس روح یا حقیقت کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
احرام کے کپڑے پہن کر عزیز و اقارب کو چھوڑ کر سفرِ حج پر روانہ ہونا، کفن پہن کر عزیز و اقارب کو چھوڑتے ہوئے آخرت کے سفر پر روانہ ہونے کی یاد دلاتا ہے۔
سفرِ حج کے لیے زادِ راہ ساتھ لینا، آخرت کے سفر کے لیے زادِ راہ ساتھ لینے کی ضرورت یاد دلاتا ہے۔
احرام پہن کر پاک صاف ہو کر اللہ کے دربار میں حاضری کے لیے ’لبیک‘ کہنا، تمام گناہوں اور معصیتوں سے پاک ہو کر آخرت میں اللہ کے حضور حاضر ہونے کی ضرورت یاد دلاتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ احرام کے کپڑے کی طرح صاف و سفید دل لے کر ہی اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہوگا۔
’لبیک اللہم لبیک‘ کہہ کر بندہ حج کے سلسلے میں اللہ کی پکار کا جواب دیتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اللہ کی ہر پکار پر لبیک کہنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ نیز یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ رکاوٹوں، مصیبتوں اور تکلیفوں کو عبور کرکے کسی بھی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک پاؤں پر کھڑا ہے۔
احرام کی حالت میں تمام احکام اور پابندیوں کی پیروی اس بات کی واضح علامت ہے کہ مومن کی زندگی بے لگام نہیں ہوتی۔ مومن کی زندگی اللہ کی رسی سے بندھی ہوتی ہے۔ اللہ جس طرف کھینچتے ہیں، وہ اسی طرف جانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ اسے معمول کے لباس سے منع کریں، زیب و زینت، عطر اور سنو کے استعمال اور میاں بیوی کے باہمی لطف و تفریح کو ممنوع قرار دے دیں تو وہ فوراً ان تمام چیزوں سے باز آ جاتا ہے۔ اللہ کی مرضی کے سامنے وہ جائز، بلکہ انتہائی ضروری چیزوں کو بھی چھوڑنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔
احرام کی حالت میں جھگڑا کرنا ممنوع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جھگڑالو مزاج نہیں ہوتا۔ مومن زندگی کے ہر مرحلے میں معافی اور صبر کی مثال قائم کرتا ہے۔ مومن امن پسند ہوتا ہے۔ لڑائی جھگڑے سے بالاتر ہو کر وہ پاکیزہ اور بردبار زندگی گزارنے کا عادی ہوتا ہے۔
بیت اللہ کے قریب پہنچ کر مومن امن محسوس کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو امن کی نشانی بنایا ہے۔[2] سفر کی تکلیفیں برداشت کرکے بیت اللہ کی پناہ میں پہنچ کر مومن ایک ناقابلِ تصور امن محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح شرک سے پاک ایمانی زندگی گزارنے کی طویل جدوجہد کے بعد مومن اللہ کے پاس پہنچ کر جو امن پائے گا، یہ اس کی ابتدائی مثال ہے۔[3]
حجرِ اسود کو بوسہ دینا اور چھونا مومن کے دل میں سنت کی تعظیم و احترام کا شعور پیدا کرتا ہے، کیونکہ محض ایک پتھر کو بوسہ دینے کی فضیلت کیا ہے، یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اس کے باوجود ہم اسے بوسہ دیتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے ایسا کیا ہے۔ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے، ہم صرف رسول اللہ (ﷺ) کی پیروی کی خاطر حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔ یہ بوسہ خود کو غیر مشروط طور پر رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت کا پابند بنانے کی ایک علامت ہے۔ عمر (رضی اللہ عنہ) نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے سے پہلے فرمایا: ’میں جانتا ہوں کہ یقیناً تو ایک پتھر ہے۔ نہ نقصان پہنچانا تیرے اختیار میں ہے اور نہ فائدہ دینا۔ اگر میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔[4] لہٰذا حجرِ اسود کو بوسہ دینا، منطق کے پیچھے پڑنے کے بجائے، اللہ اور رسول کی غیر مشروط اطاعت کا شعور سکھاتا ہے، جو دینی اصول و نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کو آسان اور رواں بنا دیتا ہے۔
طواف اللہ کو مرکز بنا کر زندگی گزارنے کی مسلسل جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی مومن کی زندگی اللہ کے احکام و ممانعت کے گرد گھومتی ہے۔ ایک اللہ کو تمام کاموں کا مرکز بنا کر مومن کی پوری زندگی گزرتی ہے۔ بیت اللہ کے گرد گھومنا اللہ کی عظیم نشانی کے گرد گھومنا ہے۔ توحید کے عالمی مرکز کے گرد گھومنا ہے۔ توحید پر مبنی زندگی گزارنے کے گہرے عہد کا اظہار کرنا ہے۔ اور سات چکر انتہائی درجے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ مومن اپنی زندگی کا ایک حصہ توحید کے گرد گردش میں رکھے اور باقی حصہ کسی دوسرے محور کے گرد گھمائے۔ مومن کا جسم و روح اور ظاہر و باطن، سب کچھ صرف اللہ کے گرد گھومتا ہے، جسے قرآنِ مجید میں ’اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ‘[5] کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو عزت بخشی ہے۔ صفا و مروہ کے درمیان سات چکر، اللہ کی رحمت و مدد کی طلب میں ایک عورت کی بے پایاں محنت اور دوڑ دھوپ کی یاد دلاتے ہیں۔ اسی محنت و مشقت کے بعد رحمت کا چشمہ ’زمزم‘ جاری ہوا تھا۔ سعی کو سات چکروں میں مکمل کرنا ہوتا ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت و مدد حاصل کرنے کے لیے سات چکر، یعنی بہت زیادہ کوشش اور محنت درکار ہے۔ ماں ہاجرہ کی طرح کنکریوں سے بھرے راستے پر صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک دوڑ دھوپ کرنے کی ضرورت ہے۔ پتھریلے راستے پر سات چکر، یعنی بہت زیادہ محنت کے بغیر دنیا و آخرت کی کوئی چیز حاصل نہیں ہو سکتی، یہ اصول ہمیں بالکل واضح طور پر سمجھا دیتا ہے۔
وقوفِ عرفہ قیامت کے میدان کی یاد دلاتا ہے، جہاں پوری انسانیت ایک وسیع و عریض میدان میں جمع ہوگی۔ جہاں بے لباس حالت میں طویل عرصے تک کھڑے ہو کر انتظار کی گھڑیاں گننی ہوں گی۔ صحیح ایمان اور اعمال کے حامل لوگ اللہ کی رحمت سے نجات پا جائیں گے، جبکہ بے ایمان اور ناقص ایمان و اعمال رکھنے والوں کو دائمی عذاب بھگتانے کے لیے زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف ہانک دیا جائے گا۔
---
[1] -دیکھیے: بخاری: حدیث نمبر 25
[2] - وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا (سورۃ البقرہ: 125)
[3] - الَّذِينَ آَمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ(الأنعام:81) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک و ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
[4] - إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك (بخاری: حدیث نمبر 1520)
[5] - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً (سورۃ البقرہ: 208)