براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج کی فضیلت اور اہمیت

باب کے صفحات

حج کے فرائض و واجبات

7 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 11 ستمبر، 2026

حج کے فرائض:

1. احرام، یعنی حج کی نیت کرنا۔ جو شخص حج کی نیت نہیں کرے گا، اس کا حج نہیں ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى».

’بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘[1]

2. وقوفِ عرفہ، یعنی عرفات میں ٹھہرنا۔[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«الْحَجُّ عَرَفَةُ».

’حج عرفہ ہے۔‘[3]

3. طوافِ افاضہ یا طوافِ زیارت (بیت اللہ کا فرض طواف)۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ»

’اور انہیں چاہیے کہ قدیم گھر[4] کا طواف کریں۔‘[5]

جب صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوگئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’کیا وہ ہمیں روک رکھے گی؟‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو افاضہ، یعنی بیت اللہ کا طواف کرچکی ہیں۔ طوافِ افاضہ کے بعد وہ حائضہ ہوئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’تو پھر اب روانہ ہوجاؤ۔‘[6] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طوافِ افاضہ فرض ہے۔

4. صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا۔[7] اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ کے نزدیک یہ فرض ہے۔[8] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْي».

’تم سعی کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔‘[9] عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

فَلَعَمْرِى مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

’میری زندگی کی قسم! اللہ اس شخص کا حج کبھی مکمل نہیں کرے گا جو صفا و مروہ کے درمیان سعی نہ کرے۔‘[10]

یاد رکھیں، جو شخص فرائض میں سے کوئی ایک فرض چھوڑ دے، اس کا حج نہیں ہوگا۔

حج کے واجبات:

1. میقات سے احرام باندھنا، یعنی میقات سے گزرنے سے پہلے ہی احرام باندھ لینا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقاتیں مقرر کرتے وقت فرمایا:

«هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَة».

’یہ ان لوگوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو دوسری جگہوں سے ان راستوں پر حج اور عمرہ ادا کرنے کے ارادے سے آئیں۔‘[11]

2. غروبِ آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا۔

جو شخص میدانِ عرفات میں دن کے وقت وقوف کرے، اس پر واجب ہے کہ غروبِ آفتاب تک عرفات میں ٹھہرا رہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ عرفات میں دن کے وقت وقوف کیا اور غروبِ آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے۔ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: مشرک اور بت پرست غروبِ آفتاب کے وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے، جب سورج پہاڑ کی چوٹی پر اس طرح ہوتا تھا جیسے کسی مرد کے سر پر عمامہ ہو۔ لہٰذا ہمارا طریقہ ان کے طریقے سے مختلف ہے۔‘[12] چنانچہ غروبِ آفتاب کے بعد عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کا مقصد مشرکین کے طریقے سے مخالفت کرنا تھا۔

3. مزدلفہ میں رات گزارنا۔

الف۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں رات گزاری اور فرمایا:

«لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا ، فَإِنِّي لاَ أَدْرِي لَعَلِّي لاَ أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا».

’میری امت کو چاہیے کہ حج کے احکام سیکھ لے، کیونکہ میں نہیں جانتا، شاید اس سال کے بعد میری ان سے دوبارہ ملاقات نہ ہو۔‘

ب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی رات کے بعد کمزور لوگوں کو مزدلفہ سے روانہ ہونے کی اجازت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنا واجب ہے، کیونکہ اجازت کی ضرورت اسی وقت ہوتی ہے جب معاملہ اہمیت کا حامل ہو۔

ج۔ اللہ تعالیٰ نے مشعرِ حرام کے پاس اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَإِذَآ أَفَضۡتُم مِّنۡ عَرَفَٰتٖ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ عِندَ ٱلۡمَشۡعَرِ ٱلۡحَرَامِۖ [البقرة: ١٩٨]

’پس جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعرِ حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو۔‘[13]

4. تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنا۔

10 تاریخ کی رات اور 11 تاریخ کی رات منیٰ میں گزارنا ضروری ہے۔ اگر 12 تاریخ کو منیٰ میں قیام کے دوران سورج غروب ہوجائے تو 12 تاریخ کی رات بھی منیٰ میں گزارنی ہوگی۔ 13 تاریخ کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہونا ہوگا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِىَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ حرام میں ظہر کی نماز ادا کرنے اور طوافِ زیارت مکمل کرنے کے بعد منیٰ واپس آکر تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں۔‘[14]

حاجیوں کو زمزم کا پانی پلانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت دی، اور اونٹوں کے نگہبانوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی اجازت دی۔ اس اجازت سے معلوم ہوتا ہے کہ منیٰ کی راتیں منیٰ ہی میں گزارنا واجب ہے۔

5. جمرات کو کنکریاں مارنا۔

10 ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ (بڑے جمرے) کو کنکریاں مارنا۔ ایامِ تشریق، یعنی 12، 12 تاریخ کو، اور جو لوگ 13 تاریخ کو منیٰ میں رہیں، ان کے لیے 13 تاریخ کو بھی بالترتیب چھوٹے، درمیانے اور بڑے جمرے کو کنکریاں مارنا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح جمرات کو کنکریاں ماری تھیں۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

رَأَيْتُ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم يَرْمِى عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّى لاَ أَدْرِى لَعَلِّى لاَ أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِى هَذِهِ ».

’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قربانی کے دن آپ اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: تم اپنے حج کے احکام سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا، شاید اپنے اس حج کے بعد میں دوبارہ حج نہ کرسکوں۔‘[15]

6. سر منڈوانا یا بال چھوٹے کروانا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: وَلْيُقْصِرْ ، وَلْيُحِلل یعنی وہ اپنے سر کے بال چھوٹے کرے اور حلال ہوجائے۔[16] نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے تین مرتبہ مغفرت کی دعا کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے ایک مرتبہ مغفرت کی دعا کی۔

7. طوافِ وداع۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ وداع کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

«لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْت».

’کوئی شخص اس وقت تک روانہ نہ ہو جب تک بیت اللہ سے اس کی آخری ملاقات نہ ہوجائے۔‘[17]

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ.

’لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ سے ملاقات ہو۔ البتہ آپ نے حائضہ عورت کو رخصت دی ہے۔‘[18]

واضح رہے کہ جو شخص ان میں سے کوئی ایک بھی چھوڑ دے، اس پر دم واجب ہوگا، یعنی اسے ایک جانور ذبح کرنا ہوگا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

مَنْ نَسِىَ شَيْئًا مِنْ نُسُكِهِ أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا.

’جو شخص اپنے حج کا کوئی عمل کرنا بھول جائے یا اسے چھوڑ دے، وہ ایک جانور ذبح کرے۔‘[19]

[1] بخاری: 1۔

[2] حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کی۔ آپ مشرکین کے بارے میں مسلمانوں سے فرما رہے ہیں: ’هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِهِمْ ’ہمارا طریقہ ان کے طریقے سے مختلف ہے۔‘ چنانچہ آپ مسلمانوں کے ساتھ میدانِ عرفات میں ٹھہرے اور اس معاملے میں بھی قریش کی مخالفت کی۔ کیونکہ قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے، بلکہ مزدلفہ ہی میں ٹھہرتے اور کہتے تھے: ہم حدودِ حرم کے باہر سے روانہ نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ عرفات حدودِ حرم سے باہر ہے۔ (بیہقی: السنن الکبریٰ: 5/125)۔

[3] إرواء الغليل: 4/256۔

[4] الْبَيْتِ الْعَتِيق یا قدیم گھر سے مراد اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا سب سے قدیم گھر، یعنی خانۂ کعبہ ہے۔ کیونکہ عبادت کے لیے تعمیر کیا جانے والا روئے زمین کا یہ سب سے پہلا گھر ہے۔

[5] الحج: 29۔

[6] بخاری: 428۔

[7] زمانۂ جاہلیت میں انصار کے بعض لوگ بتوں کے لیے حج کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا جائز نہیں۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے آئے تو انہوں نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا: ’سعی کرو، کیونکہ اللہ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔‘ (تفصیل کے لیے دیکھیے، بخاری: 1643)

[8] امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ واجب ہے۔

[9] مسند احمد: 421۔

[10] مسلم: 928۔

[11] بخاری: 1524؛ مسلم: 1181۔

[12] بیہقی، السنن الکبریٰ: 5/125۔

[13] البقرہ: 198۔

[14] ابو داؤد: 1683۔

[15] مسلم: 1297؛ ابو داؤد: 1970۔

[16] بخاری: 1691؛ مسلم: 1227۔

[17] مسلم: 2350۔

[18] مسلم: 2351۔

[19] مؤطا مالک: 890؛ دارقطنی: 2/244۔