تاریخی مقامات
مسجدِ قباء
مدینہ
یہ مسجدِ نبوی سے تقریباً تین کلومیٹر جنوب میں، قباء کے علاقے میں واقع ہے۔ ہجرت کے وقت مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے یہاں چند دن قیام فرمایا اور اس مسجد کی بنیاد رکھی—یہی اسلامی تاریخ میں تعمیر ہونے والی پہلی مسجد ہے۔ قرآن کی سورۂ توبہ میں تقویٰ کی بنیاد پر قائم کی گئی جس مسجد کا ذکر ہے، مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے اس سے مسجدِ قباء مراد لی ہے۔ مدینہ میں قیام کے دوران رسول اللہ ﷺ باقاعدگی سے، خصوصاً ہفتے کے دن، یہاں تشریف لا کر نماز ادا فرماتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے گھر سے طہارت حاصل کرکے یہاں آئے اور نماز پڑھے، اسے ایک عمرے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ کئی مرتبہ توسیع کے بعد موجودہ عمارت بہت بڑی اور جدید ہے۔
مدینہ کے مزید مقامات

میدانِ اُحد اور شہداء کا قبرستان
مدینہ کے شمال میں جبلِ اُحد کے دامن میں واقع میدان، جہاں 3 ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا اور شہداء کو دفن کیا گیا۔
البقیع قبرستان
مسجد نبوی کے مشرقی جانب واقع مدینہ کا مرکزی قبرستان، جہاں بہت سے صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کے اہلِ خانہ مدفون ہیں۔
میدانِ بدر اور شہداء کا قبرستان
مدینہ کے جنوب مغرب میں واقع ایک بستی، جہاں 2 ہجری میں اسلام کی پہلی بڑی جنگ، غزوۂ بدر، پیش آئی۔
سقیفہ بنو ساعدہ
مسجدِ نبوی کے قریب واقع وہ مقام، جہاں رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام جمع ہوئے اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔
مسجد نبوی
مدینہ کے مرکز میں واقع رسول اللہ ﷺ کی مسجد، ہجرت کے بعد آپ کی نگرانی میں تعمیر کی گئی۔ یہ اسلام کی تین بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔