تاریخی مقامات
میدانِ اُحد اور شہداء کا قبرستان
مدینہ
مسجد نبوی سے تقریباً پانچ کلومیٹر شمال میں جبلِ اُحد کے دامن میں ایک وسیع میدان ہے۔ 3 ہجری میں یہاں قریش کے لشکر اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو قریب کی چھوٹی پہاڑی جبلُ الرماۃ پر متعین فرمایا تھا؛ جنگ کے ایک مرحلے پر جب ان میں سے بہت سے افراد نے اپنی جگہ چھوڑ دی تو صورتِ حال بدل گئی۔ اس جنگ میں ستر صحابہ شہید ہوئے، جن میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حمزہ (رضی اللہ عنہ) بھی شامل تھے۔ شہداء کو میدانِ جنگ ہی میں دفن کیا گیا اور وہ قبرستان آج بھی محفوظ ہے۔ حدیث میں جبلِ اُحد سے رسول اللہ ﷺ کی محبت کا ذکر آیا ہے۔ اس وقت قبرستان چار دیواری سے گھرا ہوا ہے اور اسے باہر سے دیکھا جا سکتا ہے۔
Photo credit: visitmadinahsa.com
مدینہ کے مزید مقامات

میدانِ بدر اور شہداء کا قبرستان
مدینہ کے جنوب مغرب میں واقع ایک بستی، جہاں 2 ہجری میں اسلام کی پہلی بڑی جنگ، غزوۂ بدر، پیش آئی۔
مسجدِ قباء
مدینہ کے جنوب میں واقع اسلام کی پہلی مسجد، جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے سفر میں اپنے دستِ مبارک سے رکھی۔
البقیع قبرستان
مسجد نبوی کے مشرقی جانب واقع مدینہ کا مرکزی قبرستان، جہاں بہت سے صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کے اہلِ خانہ مدفون ہیں۔
سقیفہ بنو ساعدہ
مسجدِ نبوی کے قریب واقع وہ مقام، جہاں رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام جمع ہوئے اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔
مسجد نبوی
مدینہ کے مرکز میں واقع رسول اللہ ﷺ کی مسجد، ہجرت کے بعد آپ کی نگرانی میں تعمیر کی گئی۔ یہ اسلام کی تین بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔