تاریخی مقامات
مسجد نبوی
مدینہ
ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے خود صحابۂ کرام کے ساتھ مل کر یہ مسجد تعمیر کی۔ ابتدا میں یہ کھجور کے تنوں اور پتوں سے بنی ایک سادہ عمارت تھی اور فرش کچی مٹی کا تھا۔ مسجد محض نماز کی جگہ نہیں تھی—یہیں سے تعلیم، عدالتی امور اور ریاستی انتظام کے کام انجام دیے جاتے تھے، جبکہ ایک جانب اصحابِ صفہ قیام کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد آپ کو عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں دفن کیا گیا، جو بعد کی توسیع میں مسجد کے اندر شامل ہوگیا؛ وہیں ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کی قبریں بھی ہیں۔ احادیث میں اس مسجد میں نماز ادا کرنے کی خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ خلفائے راشدین کے دور سے لے کر موجودہ سعودی دور تک متعدد مرتبہ توسیع کے بعد اب اس میں لاکھوں نمازیوں کی گنجائش ہے۔
مدینہ کے مزید مقامات

سقیفہ بنو ساعدہ
مسجدِ نبوی کے قریب واقع وہ مقام، جہاں رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام جمع ہوئے اور ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ پر بیعت کی۔
البقیع قبرستان
مسجد نبوی کے مشرقی جانب واقع مدینہ کا مرکزی قبرستان، جہاں بہت سے صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کے اہلِ خانہ مدفون ہیں۔
مسجدِ قباء
مدینہ کے جنوب میں واقع اسلام کی پہلی مسجد، جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے سفر میں اپنے دستِ مبارک سے رکھی۔
میدانِ اُحد اور شہداء کا قبرستان
مدینہ کے شمال میں جبلِ اُحد کے دامن میں واقع میدان، جہاں 3 ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا اور شہداء کو دفن کیا گیا۔
میدانِ بدر اور شہداء کا قبرستان
مدینہ کے جنوب مغرب میں واقع ایک بستی، جہاں 2 ہجری میں اسلام کی پہلی بڑی جنگ، غزوۂ بدر، پیش آئی۔