مسائل درج ذیل ہیں:
(۱) کنکریاں مارنے سے فارغ ہوتے ہی جانور ذبح کرنا ہوتا ہے۔
(۲) جانور ذبح کرنے کا وقت ۱۰ ذوالحجہ کو طلوعِ آفتاب کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور ۱۳ ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے تک رہتا ہے۔
(۳) منیٰ یا مکہ، دونوں جگہ جانور ذبح کرنا جائز ہے۔
(۴) جانور صحیح سالم، عیب سے پاک اور بالغ ہونا چاہیے۔
(۵) ایک شخص اپنی طرف سے ایک سے زیادہ ہدی اور قربانی کے جانور ذبح کر سکتا ہے۔
(۶) اسی طرح اگر گائے یا اونٹ ہو تو ایک جانور میں ۷ افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
(۷) ذبح کرتے وقت جانور کو قبلہ رخ کرکے ذبح کرنا چاہیے۔
(۸) جانور کو بائیں کروٹ لٹا کر، اس کے دائیں پہلو پر پاؤں رکھ کر مضبوطی سے دبا کر ذبح کریں۔
(۹) ذبح کرتے وقت کہیں: بسم اللہ، اللہ اکبر۔
(۱۰) قربانی کا گوشت خود کھانا، تقسیم کرنا اور صدقہ کرنا، یہ سب سنت ہیں، نیز اسے ذخیرہ کرنا جائز ہے۔
(۱۱) ایک تہائی گوشت غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کرتے وقت حصوں کی مقدار میں کچھ کمی بیشی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(۱۲) کسی غیر معروف ادارے یا نامعلوم اور ناقابلِ اعتماد شخص سے قربانی کی رسید نہ کٹوائیں۔