براہ راست مواد پر جائیں

عمرہ گائیڈ

عمرہ کی ادائیگی میں عام غلطیاں

باب کے صفحات

طواف کے بعد دو رکعت نماز میں بعض لوگوں کی غلطیاں

5 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 29 اگست، 2026

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ثابت ہے کہ آپ طواف مکمل کرنے کے بعد مقامِ ابراہیم کی طرف بڑھتے ہوئے درج ذیل آیت کا یہ حصہ پڑھتے تھے:

وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

[وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلّٰی]

اور مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔

پھر مقامِ ابراہیم کو اپنے اور خانۂ کعبہ کے درمیان رکھ کر دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔[1]

اس سلسلے میں بعض لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ یہ غلط سمجھتے ہیں کہ یہ دو رکعت نماز مقامِ ابراہیم کے قریب ہی ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ یہاں بہت زیادہ ہجوم کرتے ہیں اور خصوصاً حج اور رمضان کے ازدحام کے موسم میں طواف کرنے والوں کو تکلیف دیتے اور ان کے طواف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ان کا یہ خیال غلط ہے؛ کیونکہ یہ نماز مسجدِ حرام میں کسی بھی جگہ ادا کرنا کافی ہے۔ مقامِ ابراہیم سے دور نماز ادا کرتے ہوئے بھی اسے اپنے اور خانۂ کعبہ کے درمیان رکھا جا سکتا ہے، تاکہ خود کو اور کسی دوسرے شخص کو تکلیف دینے سے بچا جا سکے اور نماز خشوع و سکون کے ساتھ ادا ہو۔ لہٰذا اگر مسجدِ حرام کے ذمہ داران ان لوگوں کو اس کام سے روکتے جو مقامِ ابراہیم کے پیچھے قریب ہو کر نماز ادا کرتے اور طواف کرنے والوں کو تکلیف دیتے ہیں، اور انہیں بتا دیتے کہ طواف کے بعد کی دو رکعت نماز کے لیے مقامِ ابراہیم کے قریب ہونا شرط نہیں، تو یہ بہت اچھا ہوتا۔

اس سلسلے میں ایک غلطی یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض لوگ بلا ضرورت مقامِ ابراہیم کے پیچھے بہت زیادہ نمازیں ادا کرتے ہیں، حالانکہ طواف مکمل کرنے والوں کو یہاں نماز ادا کرنے کے لیے جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہاں ایک اور غلطی یہ ہوتی ہے کہ بعض طواف کرنے والوں کے دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد ان کا قائد انہیں ساتھ لے کر بلند آواز سے اجتماعی دعا شروع کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں نماز پڑھنے والوں کی نماز میں خلل ڈال کر ان پر زیادتی کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے پکارو۔ بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔[2]

صفا و مروہ پر چڑھنا، وہاں دعا کرنا، دونوں سبز بتیوں کے درمیان دوڑنا اور اس سلسلے میں بعض لوگوں کی غلطیاں

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ثابت ہے کہ جب آپ کوہِ صفا کے قریب پہنچتے تو یہ آیت پڑھتے تھے:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ اللّهِ

[إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ]

یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔[3]

پھر آپ کوہِ صفا پر اس طرح چڑھتے کہ خانۂ کعبہ کو دیکھ سکتے تھے۔ اس کے بعد قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھاتے، اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنی پسند کے مطابق دعا کرتے تھے۔ اس وقت درج ذیل کلمۂ توحید کے ذریعے اللہ کی وحدانیت اور بڑائی بیان کرتے تھے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ

[لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ۔ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ]

اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام باطل گروہوں کو شکست دی۔

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) مذکورہ کلمہ تین مرتبہ پڑھتے اور اس کے درمیان دعا کرتے تھے۔ دعا کرنے کے بعد پیدل نیچے اترتے اور دونوں سبز بتیوں کے درمیانی حصے میں دوڑتے تھے۔ پھر اس حصے سے گزر کر مروہ تک پیدل جاتے اور مروہ پر وہی عمل کرتے جو صفا پر کیا تھا۔[4]

اس موقع پر بعض سعی کرنے والوں کی غلطی یہ ہے کہ جب وہ صفا اور مروہ پر چڑھتے ہیں تو قبلہ رخ ہو کر تین مرتبہ تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہیں، نماز میں ہاتھ اٹھانے کی طرح دونوں ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرتے ہیں، پھر نیچے اتر کر چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منقول سنت کے خلاف ہے۔ انہیں چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو سنت پر عمل کریں، ورنہ اسے چھوڑ دیں، لیکن ایسا کوئی بدعتی کام نہ کریں جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہیں کیا۔

بعض دوسرے سعی کرنے والوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ صفا سے مروہ تک شروع سے آخر تک دوڑتے رہتے ہیں۔ یہ سنت کے خلاف ہے؛ کیونکہ دوڑنا صرف دونوں سبز بتیوں کے درمیانی حصے میں سنت ہے، جبکہ باقی جگہ معمول کے مطابق چل کر سعی کرنی چاہیے۔ اس قسم کی غلطیاں اکثر لاعلمی یا جلدی سے سعی مکمل کرنے کی کوشش کے سبب ہوتی ہیں۔ (اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔)

ایک اور غلطی یہ ہے کہ بعض خواتین دونوں سبز بتیوں کے درمیانی حصے میں مردوں کی طرح دوڑتی ہیں، حالانکہ خواتین کے لیے دوڑنا سنت نہیں، بلکہ وہ معمول کے مطابق چلیں گی۔ اس کی دلیل عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ خواتین کے لیے بیت اللہ میں رمل کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا نہیں ہے۔

ایک اور غلطی یہ ہے کہ بعض سعی کرنے والے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ اللّهِ

[إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ]

جب بھی صفا اور مروہ پر پہنچتے ہیں، ہر مرتبہ پڑھتے رہتے ہیں، حالانکہ سنت یہ ہے کہ اسے صرف پہلی مرتبہ صفا پر پہنچنے کے وقت پڑھا جائے۔ ایک اور غلطی یہ ہے کہ بعض سعی کرنے والے ہر چکر میں ایک بندھی بندھائی مخصوص دعا پڑھتے ہیں، جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ لہٰذا یہ ایک بدعت ہے۔

[1]۔ صحیح: مسلم 1218، سنن دارمی 1892، نسائی 2953۔

[2]۔ سورۃ الاعراف: 55

[3]۔ سورۃ البقرہ 2: 158

[4]۔ صحیح مسلم 1218۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں حج، عمرہ اور زیارتِ مدینہ - شیخ محمد بن صالح العثیمین (رحمہ اللہ)