عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے لیے ’ذوالحلیفہ‘ نامی مقام (جس کا موجودہ نام ابیارِ علی ہے)، اہلِ شام کے لیے ’جحفہ‘ نامی مقام، اہلِ نجد کے لیے ’قرن المنازل‘ نامی مقام (جس کا موجودہ نام السیل الکبیر ہے) اور اہلِ یمن کے لیے ’یلملم‘ نامی مقام کو میقات مقرر فرمایا۔ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا: یہ میقاتیں ان علاقوں کے باشندوں کے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے ہیں جو دوسرے علاقوں سے ان راستوں سے آئیں، اگر وہ حج یا عمرے کی نیت سے آ رہے ہوں۔[1]
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مزید روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ عراق کے لیے ’ذات عرق‘ نامی مقام کو میقات مقرر فرمایا۔[2]
نیز عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّأْمِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْن
اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اہلِ شام جحفہ سے احرام باندھیں اور اہلِ نجد قرن سے احرام باندھیں۔[3]
یہ میقاتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مقرر فرمائی ہیں اور یہ اللہ کی عطا کردہ شریعت ہے۔ لہٰذا کسی کے لیے انہیں بدلنا، ان میں تجاوز کرنا یا حج و عمرے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے احرام کے بغیر انہیں عبور کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود (احکام) سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اور جو لوگ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔[4]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ:
يُهِلُّ أَهْلُ المَدِينَةِ مِنْ ذِي الحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّأْمِ مِنَ الجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ
اہلِ مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اہلِ شام جحفہ سے احرام باندھیں اور اہلِ نجد قرن سے احرام باندھیں۔[5]
اس حدیث کا مفہوم حکم کا ہے۔ اسی لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (میقاتیں) فرض (مقرر) فرمائی ہیں، جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔
لہٰذا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ رکھنے والا شخص جب مذکورہ بالا میقاتوں سے یا ان کے بالمقابل سے گزرے تو اس کے لیے وہیں سے احرام باندھنا واجب ہے، خواہ وہ خشکی کے راستے سے آئے، سمندری راستے سے یا فضائی راستے سے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص خشکی کے راستے سے آئے اور اس میقات سے گزرے تو وہاں اترے۔ اور اگر وہ اس کے بالمقابل کچھ فاصلے سے گزرے تو میقات کے بالمقابل پہنچتے ہی احرام کے وقت کیے جانے والے اعمال انجام دے، مثلاً غسل کرنا، جسم پر خوشبو لگانا اور مردوں کے لیے بغیر سلے ہوئے احرام کے کپڑے پہننا۔ پھر میقات سے روانہ ہونے سے پہلے احرام کی نیت کرے۔
اور اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے ارادے سے سمندری راستے سے آئے اور جہاز میقات کے بالمقابل ٹھہرے تو وہیں غسل کرے، خوشبو لگائے اور قیام کی حالت میں (مرد بغیر سلے ہوئے احرام کے کپڑے پہنیں)۔ پھر وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے احرام کی نیت کرے۔ لیکن اگر جہاز میقات کے بالمقابل نہ ٹھہرے تو میقات کے بالمقابل پہنچنے سے پہلے غسل کرے، خوشبو لگائے اور قیام کی حالت میں (مرد بغیر سلے ہوئے احرام کے کپڑے پہنیں)۔ پھر میقات کے بالمقابل پہنچنے سے پہلے ہی احرام کی نیت کرے۔
اور اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے ارادے سے فضائی راستے سے آئے تو ہوائی جہاز پر سوار ہونے سے پہلے غسل کر لے، خوشبو لگائے اور (مرد بغیر سلے ہوئے احرام کے کپڑے پہنیں)۔ پھر میقات کے بالمقابل پہنچنے کا انتظار کیے بغیر اس سے کچھ پہلے ہی احرام کی نیت کرے۔ کیونکہ ہوائی جہاز بہت تیزی سے سفر طے کرتا ہے، اس لیے میقات کے بالمقابل پہنچنے کے وقت کا اندازہ نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذا اگر وہ میقات کے بالمقابل پہنچنے سے کافی پہلے ہی احرام باندھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
یہاں بعض لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ ہوائی جہاز میں سوار ہو کر میقات کے اوپر سے یا اس کے آس پاس سے گزر جاتے ہیں، پھر جدہ کے ہوائی اڈے پر اترتے ہیں اور وہاں سے احرام باندھتے ہیں۔ حالانکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف عمل اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بصرہ اور کوفہ دونوں شہر فتح ہوئے تو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ نجد کے لیے قرن نامی مقام کو میقات مقرر فرمایا ہے، جو ہمارے راستے سے دوسری جانب ہے۔ لہٰذا اگر ہم قرن جا کر احرام باندھیں تو یہ ہمارے لیے بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ اس پر خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر اپنے راستے میں ’قرن المنازل‘ کے بالمقابل مقام تلاش کر لو۔ چنانچہ امیر المؤمنین، خلیفۂ راشد نے ان لوگوں کے لیے جو میقات سے نہیں گزر سکتے، میقات کے بالمقابل مقام ہی کو میقات قرار دیا۔[6] اور جس طرح خشکی میں میقات کے بالمقابل ہونا معتبر ہے، اسی طرح فضائی راستے میں بھی میقات کے بالمقابل ہونا معتبر ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اس قسم کی غلطی کر بیٹھے، مثلاً احرام باندھنے سے پہلے جدہ میں اتر جائے، تو اسے اس میقات کی طرف واپس جانا ہوگا جس کے بالمقابل سے وہ فضائی راستے میں گزرا تھا اور وہاں سے احرام باندھنا ہوگا۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے اور جدہ سے احرام باندھے تو اکثر علماء کے نزدیک اسے مکہ میں بطور فدیہ ایک قربانی ذبح کرکے اس کا سارا گوشت وہاں کے محتاجوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔ وہ خود اس میں سے کچھ نہیں کھا سکتا اور نہ کسی خوش حال شخص کو اس میں سے ہدیہ دے سکتا ہے، کیونکہ یہ کفارے کے حکم میں ہے۔
[1]۔ صحیح بخاری 1524۔
[2]۔ سنن ابی داؤد 1739 اور سنن نسائی 2653۔
[3]۔ صحیح بخاری 1526 اور مسلم 1181۔
[4]۔ سورۃ البقرہ 2: 229
[5]۔ صحیح بخاری 1525۔
[6]۔ صحیح بخاری 1531۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں حج، عمرہ اور زیارتِ مدینہ - شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ