براہ راست مواد پر جائیں

عمرہ گائیڈ

باب کے صفحات

عمرہ کا حکم

2 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 23 اگست، 2026

صحیح قول کے مطابق عمرہ کرنا واجب ہے۔[1] اور وہ زندگی میں ایک مرتبہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ».

‘اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؛ نماز قائم کرو؛ زکوٰۃ ادا کرو؛ حج اور عمرہ کرو؛ ناپاکی سے پاک ہونے کے لیے غسل کرو؛ مکمل طور پر وضو کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔’[2]

عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورتوں کے لیے بھی جہاد ہے؟ جواب میں آپ نے فرمایا،

«نَعَمْ ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ ، لاَ قِتَالَ فِيهِ : الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ».

‘ہاں، ان کے لیے بھی جہاد[3] ہے، جس میں کوئی لڑائی نہیں۔ وہ حج اور عمرہ ہے۔’[4]

ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،

لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ وَاجِبَتَانِ لاَ بُدَّ مِنْهُمَا فَمَنْ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ خَيْرٌ وَتَطَوُّعٌ.

‘ہر شخص پر ایک مرتبہ حج اور ایک مرتبہ عمرہ واجب ہے،[5] جنہیں لازماً ادا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد جو زائد کرے گا، وہ بہتر اور نفل ہوگا۔’[6]

جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

لَيْسَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدٌ إِلاَّ وَعَلَيْهِ عُمْرَةٌ وَاجِبَةٌ.

‘اللہ کی ہر مخلوق (صاحبِ استطاعت انسان) پر یقیناً عمرہ واجب ہے۔’[7]

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،

الْحَجُّ وَالْعُمْرَة وَاجِبَتَانِ.

حج اور عمرہ دونوں واجب ہیں۔’[8]

[1]. امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عمرہ کرنا سنت ہے۔ دلیل جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا عمرہ کرنا واجب ہے؟ جواب میں آپ نے فرمایا، لاَ وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ ‘نہیں، البتہ اگر تم عمرہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔’ دونوں فریقوں کے دلائل کا جائزہ لینے سے ان لوگوں ہی کا قول راجح معلوم ہوتا ہے جنہوں نے اسے واجب کہا ہے۔

[2]. ابن خزیمہ: ۳۰۶۵؛ ابن حبان: ۱۷۳۔

[3]. جہاد نہایت مشقت والا عمل ہے۔ عورتوں کے لیے حج (مردوں کے مقابلے میں) زیادہ مشقت والا کام ہے۔ اسی لیے یہ عورتوں کا جہاد ہے۔ عورتوں کو بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں جسمانی طور پر بھی بہت سے کام مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی تشریحات ہیں۔

[4]. مسند احمد: ۲۲۲۵۲؛ ابن ماجہ: ۱۰۹۲؛ ابن خزیمہ: ۳۰۴۷۔

[5]. سنت کی اصطلاح میں فرض اور واجب دونوں کے لیے لفظ واجب استعمال ہوتا ہے۔

[6]. ابن خزیمہ: ۳۰۶۶؛ حاکم: ۲۳۷۱؛ بخاری، تعلیقاً۔

[7]. ابن خزیمہ: ۳۰۷۶۔

[8]. المحلیٰ: ۵/۸۔