پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ حجاج کرام کو 10 ذوالحجہ کی رات، یعنی 11 ذوالحجہ کی رات، منیٰ ہی میں گزارنی ہوگی۔ چونکہ یہ ایامِ تشریق کی رات ہے، اس لیے سب کو چاہیے کہ اس وقت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اگلے دن، یعنی 11 تاریخ کے اعمال کے لیے تیار رہیں۔ 11 تاریخ کے اعمال درج ذیل ہیں:
1. اگر 10 تاریخ کا کوئی عمل باقی رہ گیا ہو تو اس دن اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ یعنی 10 تاریخ کے اعمال میں سے ہدی ذبح کرنا، سر منڈوانا یا بال چھوٹے کروانا، یا طوافِ افاضہ یا طوافِ زیارت ادا کرنا اگر کسی کے لیے اس دن ممکن نہ ہوا ہو تو وہ آج اسے مکمل کر سکتا ہے۔
2. اس دن کا مخصوص عمل کنکریاں مارنا ہے۔ اس دن تینوں جمرات کو کنکریاں مارنی ہوں گی۔ کنکریاں مارنے کے لیے درج ذیل طریقہ اختیار کریں:
گزشتہ 10 تاریخ کو جمرۂ عقبہ پر ماری گئی کنکریوں کی طرح یہ کنکریاں بھی منیٰ میں موجود خیمے، راستے یا کسی اور جگہ سے جمع کی جا سکتی ہیں۔ اور جو لوگ پہلے ہی کنکریاں جمع کر کے لے آئے ہیں، ان کے لیے وہی کافی ہیں۔
3. ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارنی ہوں گی۔ ان سب کی مجموعی تعداد اکیس کنکریاں ہوگی۔ تاہم مزید دو چار اضافی کنکریاں بھی ساتھ رکھیں، تاکہ اگر کوئی کنکری نشانے سے چوک کر مقررہ جگہ سے باہر جا گرے تو ان سے کام لیا جا سکے۔
4. منیٰ کی جانب واقع چھوٹے جمرہ سے آغاز کریں گے اور مکہ کی جانب واقع بڑے جمرہ پر اختتام کریں گے۔
5. کنکریاں مارنے کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد سے ہے۔ اس دن سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مارنا جائز نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ذکر ہوا ہے:
«رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ»
’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سورج پوری طرح روشن ہو جانے کے بعد جمرہ کو کنکریاں ماریں، اور بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد کنکریاں ماریں۔‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر نہایت مہربان ہونے کے باوجود سورج ڈھلنے تک انتظار کرتے رہے اور پھر کنکریاں ماریں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
«كُنَّا نَتَحَيَّنُ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا».
’ہم انتظار کرتے تھے، پھر جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے تھے۔‘[2] علاوہ ازیں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:
«لاَ تُرْمَى الْجِمَارُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ».
’تین دنوں میں سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں نہیں ماری جائیں گی۔‘[3]
لہٰذا سورج ڈھلنے کے بعد کنکریاں مارنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کا عمل ہے۔ اور یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ان کی پیروی ہی ہمارے لیے ہدایت کا سبب ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’اگر کوئی سنت کی پیروی کرنا چاہے تو اسے وفات پا جانے والوں کی سنت کی پیروی کرنی چاہیے، کیونکہ زندہ لوگ فتنے سے محفوظ نہیں ہیں۔‘[4]
علاوہ ازیں سورج کے مغربی آسمان کی طرف ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مارنے کے جواز کے حق میں بعض معاصر علماء نے جو رائے دی ہے، وہ 12 ذوالحجہ کے بارے میں ہے، 11 ذوالحجہ کے بارے میں نہیں۔ مزید برآں، وہ کوئی قابلِ قبول رائے بھی نہیں ہے۔
6. سب سے پہلے جمرۂ صغریٰ، یعنی چھوٹے جمرہ کے پاس آئیں۔ منیٰ کی مسجدِ خیف سے یہی سب سے زیادہ قریب ہے۔ وہاں ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ایک ایک کر کے سات کنکریاں ماریں۔ ہر مرتبہ کنکری مارتے وقت ’اللہ اکبر‘ کہیں۔ کسی بھی جانب سے کنکری ماریں، کوئی حرج نہیں۔ اس جمرہ کو کنکریاں مارنے کے بعد مقامِ رمی سے دوسرے جمرہ کی جانب تھوڑا آگے بڑھیں اور ایک طرف کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کریں۔ اس وقت قبلہ رخ ہو کر طویل دعا کرنا مستحب ہے۔
7. اس کے بعد دوسرے جمرہ کی طرف روانہ ہوں اور پہلے کی طرح وہاں بھی ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ایک ایک کر کے سات کنکریاں ماریں، اور ہر مرتبہ کنکری مارتے وقت ’اللہ اکبر‘ کہیں۔ کسی بھی جانب سے کنکری مارنے سے رمی ادا ہو جائے گی۔ اس جمرہ کو کنکریاں مارنے کے بعد مقامِ رمی سے تھوڑا ہٹ جائیں اور ہاتھ اٹھا کر قبلہ رخ ہو کر طویل دعا کریں۔
8. اس کے بعد تیسرے جمرہ کے پاس آئیں۔ یہ بڑا جمرہ ہے، جو مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ وہاں بھی ہر مرتبہ ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ایک ایک کر کے سات کنکریاں ماریں۔ کنکریاں مارنے کے بعد وہاں سے ہٹ جائیں، لیکن دعا کے لیے کھڑے نہ ہوں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنے کے بعد وہاں نہیں ٹھہرے تھے۔[5]
9. حاجی مرد ہو یا عورت، واجب یہی ہے کہ وہ خود اپنی کنکریاں مارے۔ تاہم اگر اس کے لیے خود کنکریاں مارنا دشوار ہو جائے، مثلاً بیمار یا کمزور عورت، بوڑھی عورت یا بچہ وغیرہ ہو، تو ایسی صورت میں دن کے آخری حصے یا رات تک تاخیر کرنے کی گنجائش ہے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی دوسرے حاجی کو اپنی طرف سے نائب مقرر کرے، جو اس کی جانب سے کنکریاں مارے۔
10. جب کوئی حاجی کسی دوسرے کی طرف سے نائب بنے تو نائب حاجی پہلے اپنی طرف سے کنکریاں مارے گا، پھر اپنے موکل کی طرف سے کنکریاں مارے گا۔[6]
11. اس دن کنکریاں مارنے کے آخری وقت کے متعلق کوئی مستند روایت موجود نہیں۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ غروبِ آفتاب سے پہلے کنکریاں ماری جائیں۔ اگر رات میں کنکریاں ماری جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ مختلف روایات میں صحابۂ کرام سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
12. اس دن کے دیگر اعمال میں سے ایک عمل منیٰ میں رات گزارنا ہے، جیسا کہ اس سے پہلے تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔
13. امام یا امام کا قائم مقام شخص لوگوں کو خطبہ دے گا۔ اس خطبے میں وہ دین کے مسائل بیان کرے گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ بنو بکر قبیلے کے دو اشخاص سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
«رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى».
’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایامِ تشریق کے درمیانی دن خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت ہم آپ کی سواری کے قریب تھے۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خطبہ تھا جو آپ نے منیٰ میں دیا تھا۔‘[7]
یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ یہ دن ایامِ تشریق میں سے ایک ہے، اور ایامِ تشریق اللہ کے ذکر کے دن ہیں، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ یہ مقام منیٰ ہے، اور منیٰ حرم شریف ہی کا ایک حصہ ہے۔ لہٰذا حجاج کا فرض ہے کہ وہ مقام، وقت اور حالت کی حرمت و عظمت کو سمجھیں اور اسی کے مطابق چلیں اور عمل کریں۔ وقت کو اللہ تعالیٰ کے ذکر، تکبیر یا کسی دوسرے نیک عمل میں صرف کریں اور ہر قسم کی برائی، گناہ، جھگڑے، فضول اور بے فائدہ امور سے بچیں۔
[1]۔ مسلم: 1299۔
[2]۔ بخاری: 1746۔
[3]۔ مؤطا مالک: 1/408۔
[4]۔ بیہقی: 10/116؛ ابن عبدالبر، جامع بیان العلم: 2/97۔
[5]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنے سے فارغ ہوتے تو سیدھے چلے جاتے اور وہاں نہیں ٹھہرتے تھے (ابن ماجہ: 3033)۔
[6]۔ اپنا عمل پہلے انجام دینے کا حکم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک حدیث میں ملتا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: لبیک عن شبرمہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: شبرمہ کون ہے؟ اس شخص نے کہا: میرا بھائی، یا اس نے کہا: میرا قریبی رشتہ دار۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنا حج کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے) اپنا حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو (ابو داؤد: 1811)۔
[7]۔ ابو داؤد: 1952؛ صحیح ابن خزیمہ: 2973۔