12 ذوالحجہ کے اعمال بالکل 11 ذوالحجہ کے اعمال ہی کی طرح ہیں۔ اس دن حاجی حضرات عموماً ’متعجل‘ یعنی جلد روانہ ہونے والے اور ’متأخر‘ یعنی دیر سے روانہ ہونے والے، دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوۡمَيۡنِ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۖ لِمَنِ ٱتَّقَىٰۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ ٢٠٣ ﴾ [البقرة: ٢٠٣]
’پھر جو شخص جلدی کرکے دو دن ہی میں چلا جائے، اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تاخیر کرے، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (یہ حکم) اس شخص کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرے۔ اور تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان رکھو کہ یقیناً تم سب اسی کے پاس جمع کیے جاؤ گے۔‘[1]
یہاں ’جو شخص جلدی کرے‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے حج کو مکمل کرنے کے لیے اسی دن منیٰ سے نکل جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف ’جو تاخیر کرے‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس دن (منیٰ چھوڑ کر) نہیں جاتے، بلکہ منیٰ ہی میں قیام کرتے ہیں اور اگلے دن سورج کے مغربی آسمان کی طرف ڈھلنے کے بعد کنکریاں مار کر منیٰ سے روانہ ہوتے ہیں۔ 13 تاریخ کو منیٰ میں قیام کرنا ہی افضل ہے۔ کیونکہ:
الف۔ اللہ تعالیٰ نے صرف تقویٰ کی بنیاد پر جلدی کرنے کی اجازت دی ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوا ہے۔
اور تقویٰ کا معاملہ انسان کے اعمال سے ظاہر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ حج کے اعمال سے بیزار ہو کر آخری دن کنکریاں مارنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ مالی نقصان کے اندیشے سے منیٰ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر تقویٰ کے خلاف ہے۔ لہٰذا حاجی کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
ب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود 13 تاریخ کو منیٰ میں قیام کرکے کنکریاں ماری تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی من و عن پیروی ہی میں تمام بھلائی پوشیدہ ہے۔
[1]۔ البقرۃ: 203۔