الف۔ یہ دن عبادت و بندگی، اللہ رب العالمین کے ذکر اور اس کا شکر ادا کرنے کے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ ۞وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ فِيٓ أَيَّامٖ مَّعۡدُودَٰتٖۚ﴾ [البقرة: ٢٠٣]
’اور مقررہ دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔‘[1] اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
الأَيَّامِ الْمَعْدُوْدَاتُ: أَيَّامُ التَّشْرِيْقِ .
’مقررہ دنوں‘ سے مراد ایامِ تشریق ہیں۔‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«أَيَّامُ التَّشْرِيْقُ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ».
’ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ رب العالمین کے ذکر کے دن ہیں۔‘[3]
امام ابن رجب رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ ایامِ تشریق ایسے دن ہیں جن میں اہلِ ایمان کے جسم و دل کی نعمت، یعنی نشاط، کو یکجا کر دیا گیا ہے؛ کیونکہ کھانا پینا جسم کی غذا ہے، جبکہ اللہ کا ذکر اور اس کا شکر دل کی غذا ہے۔ اور اس طرح ان دنوں میں نعمت کی تکمیل ہوتی ہے۔
ب۔ ایامِ تشریق، یعنی تشریق کے دن، عید کے دن شمار ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«يَوْمُ عَرَفَةَ، وَيَوْمُ النَّحْرِ، وَأَيَّامُ مِنَى عِيْدُنَا أَهْلُ الإِسْلاَمِ».
’عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور منیٰ کے دن (قربانی کے بعد کے تین دن) ہمارے، یعنی اہلِ اسلام کے، عید کے دن ہیں۔‘[4]
یہ دن ذوالحجہ کے پہلے عشرے سے متصل ہیں، جو نہایت فضیلت والا ہے۔ اس وجہ سے بھی ان دنوں کو خاصی عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں، ان دنوں میں حج کے بعض اہم اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی یہ دن فضیلت کے حامل ہیں۔
[1]. البقرہ: ۲۰۳۔
[2]. بخاری، عید کا باب۔
[3]. مسلم: ۱۱۴۱۔
[4]. ابوداؤد: ۲۴۱۹۔