براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۱۱ تا ۱۳ ذوالحجہ (ایامِ تشریق)

باب کے صفحات

متعجل (جلد روانہ ہونے والے) حاجی صاحبان کے لیے ضروری امور

2 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 11 ستمبر، 2026

اس دن حاجیوں کا بنیادی کام جمرات کو کنکریاں مارنا ہے۔ انہیں درج ذیل طریقے سے کنکریاں مارنے کا عمل مکمل کرنا ہوگا:

گیارہ تاریخ کی طرح پہلے مسجد الخیف کے قریب واقع چھوٹے جمرے کو کنکریاں مارنی ہوں گی۔ پہلے بیان کردہ طریقے کے مطابق ہر مرتبہ ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ایک ایک کرکے سات کنکریاں مارنی ہوں گی۔ کنکریاں مارنے کے بعد کچھ ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنی ہوگی۔

پھر درمیانی جمرے کو کنکریاں مارنی ہوں گی۔ پہلے بیان کردہ طریقے کے مطابق ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ایک ایک کرکے سات کنکریاں مارنی ہوں گی۔ کنکریاں مارنے کے بعد بائیں جانب ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرنی ہوگی۔

پھر بڑے جمرے، یعنی جمرۃ العقبہ کو کنکریاں مارنی ہوں گی۔ پہلے بیان کردہ طریقے کے مطابق ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے ایک ایک کرکے سات کنکریاں مارنی ہوں گی۔ کنکریاں مارنے کے بعد اس جگہ سے چلے جانا ہوگا۔ یہاں کوئی دعا نہیں ہے۔

متعجل حاجیوں کے لیے اس دن غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جانا ضروری ہے۔ سورج غروب ہو جائے تو پھر نہ نکلیں۔ ایسی صورت میں ان پر متأخر حاجیوں کا حکم لاگو ہوگا۔ چنانچہ وہ رات گزاریں گے اور اگلے دن کنکریاں ماریں گے۔ کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

«مَنْ غَرَبَتْ لَهُ الشَّمْسُ مِنْ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَهُوَ بِمِنًى فَلَا يَنْفِرَنَّ حَتَّى يَرْمِيَ الْجِمَارَ مِنْ الْغَدِ»ََََ.

’ایامِ تشریق کے درمیانی دن (۱۲ تاریخ) جس شخص پر منیٰ میں رہتے ہوئے سورج غروب ہو جائے، وہ اگلے دن کنکریاں مارے بغیر (منیٰ سے) روانہ نہ ہو۔‘[1]

اگر جلد روانہ ہونے والے حاجیوں نے نکلنے کی تیاری کرلی اور کوشش بھی کی، لیکن اس کے باوجود کسی وجہ سے نہ نکل سکے یا راستے ہی میں سورج غروب ہوگیا، تو جمہور علماء کے نزدیک وہ متعجل ہی رہیں گے اور نکل سکیں گے۔ اسی طرح اگر متعجل حاجی اپنا کوئی سامان منیٰ میں چھوڑ آئیں اور غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جائیں، تو وہ واپس جا کر اسے لے سکتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں اگلے دن تک رہنا ضروری نہیں ہوگا۔

اس عمل کے ساتھ ہی متعجل حاجی حج کے اعمال مکمل کرلیں گے۔ صرف طوافِ وداع باقی رہے گا۔ اس کی تفصیلی بحث آگے آ رہی ہے۔

[1]۔ موطأ مالک: ۱/۴۰۷۔