براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۱۰ ذوالحجہ

باب کے صفحات

باب 9 از 12

۱۰ ذوالحجہ

رات گزارنے کے سلسلے میں ہونے والی غلطیاں

1 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 11 ستمبر، 2026

۱۔ بے مقصد گفتگو میں وقت ضائع کرنا۔ کبھی یہ گفتگو غیبت، بدگوئی بلکہ فحاشی تک جا پہنچتی ہے، حالاں کہ منیٰ کے دن صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

۲۔ جن لوگوں کو منیٰ میں خیمہ لگانے کا موقع نہیں ملا، ان میں سے بعض منیٰ کی کسی سڑک پر بیٹھ جاتے ہیں، پھر نصف شب ہوتے ہی اپنی قیام گاہوں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کا یہ عمل خود ان کے لیے یا ان کے اہل و عیال اور بچوں کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ اس قسم کا عمل شرعی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں، کیونکہ اس سے خود بھی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اور دوسروں کو بھی تکلیف دی جاتی ہے۔

۳۔ بعض حجاجِ کرام طوافِ افاضہ کے لیے مکہ جا کر رات کو واپس آنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ بلاشبہ یہ خلافِ ضابطہ عمل ہے۔

۴۔ بعض حجاجِ کرام طواف اور سعی مکمل کرنے کے بعد منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، لیکن رات کے وقت گاڑیوں کے شدید ازدحام کے باعث بروقت منیٰ نہیں پہنچ پاتے۔ ایسی صورت میں انہیں چاہیے کہ مکہ سے منیٰ گاڑی پر آنے کی کوشش ترک کرکے پیدل راستے سے آئیں۔ اور اگر کمزوری یا ساتھیوں کی پریشانی کے باعث ایسا ممکن نہ ہو تو رات گزارنے کی نیت ضرور رکھیں۔ اس کے باوجود اگر وہ پہنچنے پر قادر نہ ہوں تو ’اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘۔