۱۔ ۱۰ ذوالحجہ کی رات اور ۱۱ ذوالحجہ کی رات منیٰ میں گزارنی ہوگی۔ اگر ۱۲ ذوالحجہ کو منیٰ میں قیام کی حالت میں سورج غروب ہو جائے تو ۱۲ ذوالحجہ کی رات بھی منیٰ میں گزارنی ہوگی۔ ۱۳ ذوالحجہ کو کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہونا ہوگا۔
۲۔ اور چونکہ حجاج کرام کو تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنی ہوتی ہیں، اس لیے جو حجاج کرام طوافِ افاضہ اور سعی کرنے کے لیے مکہ چلے گئے ہوں، ان کے لیے ضروری ہے کہ طواف و سعی مکمل کرکے منیٰ واپس آئیں۔
۳۔ یاد رکھنا چاہیے کہ منیٰ میں رات گزارنا ایک اہم عمل ہے، بلکہ صحیح قول کے مطابق یہ واجب ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِىَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ»
’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ حرام میں ظہر کی نماز ادا کی، طوافِ زیارت مکمل کرکے منیٰ واپس تشریف لائے اور تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں۔‘[1]
۴۔ حجاج کو زمزم کا پانی پلانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ کو منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت دی تھی اور اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو منیٰ سے باہر رات گزارنے کی اجازت دی تھی۔ اس اجازت دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ منیٰ کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے۔
۵۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
«أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَنْهَى أَنْ يَبِيتَ أَحَدٌ مِنْ وَرَاءِ الْعَقَبَةِ ، وَكَانَ يَأْمُرُهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا مِنًى».
’عمر رضی اللہ عنہ عقبہ کے پار (منیٰ سے باہر) رات گزارنے سے منع کرتے تھے اور لوگوں کو منیٰ میں داخل ہونے کا حکم دیتے تھے۔‘[2] ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر کوئی شخص منیٰ میں رات نہ گزارتا تو عمر رضی اللہ عنہ اسے سزا دیتے تھے۔[3]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
«لاَ يَبِيتَنَّ أَحَدٌ مِنْ وَرَاءِ الْعَقَبَةِ لَيْلاً بِمِنًى أَيَّامَ التَّشْرِيقِ».
’تم میں سے کوئی شخص ایامِ تشریق میں منیٰ کی کوئی رات عقبہ کے پار نہ گزارے۔‘[4]
اعلاء السنن میں مذکور ہے:
وَدَلاَلَةُ الأَثْرِ عَلَى لُزُوْمِ الْمَبِيْتِ بِمِنَى فِي لَيَالِيْهَا ظَاهِرَةٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ ظَاهِرَ لَفْظِ الْهِدَايَةِ يُشْعِرُ بِوُجُوْبِهَا عِنْدَنَا
’منیٰ میں رات گزارنے کے لازم ہونے کے بارے میں حدیث کے الفاظ واضح ہیں۔ اور یہ بات پہلے ذکر کی جا چکی ہے کہ ہدایہ[5] کی ظاہر عبارت منیٰ میں رات گزارنے کو ہمارے نزدیک واجب قرار دیتی ہے۔‘[6]
لہٰذا فقہِ حنفی کا معتبر قول یہ ہے کہ ایامِ تشریق میں منیٰ سے باہر قیام کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔[7]
خلاصہ یہ ہے کہ صحیح قول کے مطابق حجاج کرام کے لیے منیٰ میں رات گزارنا واجب ہے۔ لہٰذا مذکورہ دنوں میں نہایت اہتمام کے ساتھ منیٰ میں قیام کریں۔ اگر حجاج کرام کوئی بھی رات منیٰ میں نہ گزاریں تو علما کے مطابق ان پر دم دینا واجب ہوگا۔ اور اگر کچھ راتیں منیٰ میں اور کچھ راتیں دوسری جگہ گزاریں تو گناہ گار ہوں گے۔ اس صورت میں کچھ صدقہ کرنا ہوگا۔ حتی الامکان دن کے وقت بھی منیٰ ہی میں رہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ تشریق کے دن بھی منیٰ میں گزارے ہیں۔
۶۔ واضح رہے کہ منیٰ میں رات گزارنے کا مطلب منیٰ کی حدود میں رات گزارنا ہے۔ رات گزارنے کا مقصد یہ نہیں کہ صرف سونا یا لیٹے رہنا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر کوئی بیٹھ کر نماز ادا کرے، دعا و ذکر کرے یا گفتگو کرے تو بھی رات گزارنا شمار ہوگا۔ رات کا بیشتر حصہ یا آدھی رات وہاں قیام کرنے سے رات گزارنا شمار ہوگا۔
یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے منیٰ میں قیام کرنا آسان ہے اور جنہیں خیمہ ملا ہے۔ البتہ جنہیں منیٰ میں خیمہ نہیں ملا، بلکہ ان کا خیمہ مزدلفہ کی حدود میں واقع ہے، اگر ان کا خیمہ منیٰ کے خیموں سے متصل ہو تو اپنے خیمے میں قیام کرنے ہی سے منیٰ میں رات گزارنا شمار ہوگا۔
[1]۔ ابوداؤد: ۱۶۸۳۔
[2]۔ ابن ابی شیبہ: ۱۴۳۶۸۔
[3]۔ اعلاء السنن: ۷/۳۱۹۵۔
[4]۔ ابن ابی شیبہ: ۱۴۳۶۷۔
[5]۔ فقہِ حنفی کی ایک مشہور کتاب کا نام ہے۔
[6]۔ اعلاء السنن: ۷/۳۱۹۵۔ (تَرْكُ الْمُقَامِ بِهَا مَكْرُوْهٌ تَحْرِيْمًا)
[7]۔ حوالہ مذکورہ