کنکریاں مارنے، ہدی ذبح کرنے اور سر کے بال منڈوانے یا چھوٹے کروانے کے یہ تینوں اعمال مکمل کرنے کے بعد غسل کریں، خوشبو لگائیں، سلے ہوئے کپڑے پہنیں اور خانۂ کعبہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔ طوافِ افاضہ سے پہلے معمول کا لباس پہننا اور خوشبو استعمال کرنا سنت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«كُنْتُ أُطَيِّبُ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوْفَ الْبَيْتَ».
’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے احرام کے لیے، اور حلال ہونے کے لیے طواف سے پہلے خوشبو لگایا کرتی تھی۔‘[1]
ابتدا میں عمرہ ادا کرتے وقت جس طریقے سے طواف کیا تھا، بالکل اسی طریقے سے طواف کریں۔ یعنی حجرِ اسود سے طواف شروع کریں۔ تاہم اس طواف میں رمل اور اضطباع نہیں ہے۔
طواف مکمل کرنے کے بعد دو رکعت نماز ادا کریں۔ اگر مقامِ ابراہیم کے سامنے ادا کرنا ممکن نہ ہو تو کسی بھی جگہ ادا کر سکتے ہیں۔ نماز کے بعد زمزم کا پانی پینا مستحب ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔[2]
طواف کے بعد صفا و مروہ کی سعی بالکل اسی طرح کریں جس طرح پہلے عمرے کے وقت کی تھی۔[3]
[1]۔ مسلم: ۲۰۴۲۔
[2]۔ بخاری: ۳/۴۹۱؛ مسلم: ۲/۸۹۲۔
[3]۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ سعی کرنا واجب ہے۔ تاہم اکثر صحابۂ کرام اور ائمہ نے اسے فرض قرار دیا ہے، اور یہی راجح قول ہے۔