۱۔ طوافِ افاضہ کا سب سے پہلا جائز وقت قربانی کے دن کی نصف شب سے شروع ہوتا ہے۔ یا (کنکریاں مارنے کے پہلے وقت کے متعلق علماء کے اختلاف کی بنیاد پر) فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد سے۔
۲۔ طوافِ افاضہ کا افضل وقت قربانی کے دن کنکریاں مارنے، قربانی کرنے اور سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے کے بعد ہے۔
۳۔ اگر اس طواف کو رات تک مؤخر کر دیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ تاہم افضل یہ ہے کہ طوافِ افاضہ میں تاخیر نہ کی جائے۔ کسی عذر کے بغیر ذوالحجہ کے بعد تک طوافِ افاضہ کو مؤخر کرنا جائز نہیں ہوگا۔
۴۔ اکثر فقہاء کے نزدیک طوافِ افاضہ ۱۳ تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے کر لینا افضل ہے۔ تاہم اس کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے اور اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ ان کے نزدیک طوافِ افاضہ یا طوافِ زیارت کی ادائیگی کا وقت غیر محدود ہے اور بارہ تاریخ کے بعد ادا کرنے پر بھی کوئی دم لازم نہیں ہوگا۔[1] اس کے برخلاف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ۱۰ ذوالحجہ کو صبحِ صادق طلوع ہونے کے بعد سے ۱۲ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک طوافِ زیارت کرنا واجب ہے۔ اس کے بعد بھی طوافِ زیارت صحیح ہوگا اور فرض ادا ہو جائے گا، تاہم دم دینا ہوگا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے حق میں کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا ۱۲ تاریخ کے بعد بھی طوافِ زیارت کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اس پر کوئی دم بھی لازم نہیں ہوگا۔ البتہ اسے جتنی جلدی ممکن ہو ادا کرنا افضل ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
۵۔ چار اعمال، یعنی کنکریاں مارنے، ہدی ذبح کرنے، سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے اور طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حاجی صاحب کے لیے جماع بھی حلال ہو جائے گا۔
۶۔ اگر حاجیوں میں سے کوئی شخص روانگی کے وقت تک طوافِ افاضہ کو مؤخر کر دے تو طوافِ افاضہ کے ساتھ اس کا طوافِ وداع بھی ادا ہو جائے گا۔ اسے دوبارہ طوافِ وداع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
افضل یہ ہے کہ طوافِ زیارت اور سعی یکے بعد دیگرے کی جائے اور درمیان میں طویل وقفہ نہ دیا جائے۔ علماء عموماً ایک دن یا ۱۲ گھنٹے تک کے وقت کو وقفے کی زیادہ سے زیادہ حد قرار دیتے ہیں۔
[1]۔ الکاسانی: بدائع الصنائع: ۲/۳۱۴۔