براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۱۰ ذوالحجہ

باب کے صفحات

باب 9 از 12

۱۰ ذوالحجہ

دسویں دن کی فضیلت

2 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 11 ستمبر، 2026

دسویں دن کی فضیلت:

۱۔ یہ دن ’یوم الحج الاکبر‘ یعنی حجِ اکبر کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،

﴿وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ﴾ [التوبة: ٣]

’اور حجِ اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لوگوں کے لیے اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی۔‘[1]

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا،

«أَىُّ يَوْمٍ هَذَا، قَالُوا يَوْمُ النَّحْرِ. قَالَ هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ».

’یہ کون سا دن ہے؟‘ انہوں نے کہا، ’قربانی کا دن۔‘ آپ نے فرمایا، ’یہ حجِ اکبر کا دن ہے۔‘[2] کیونکہ اس دن حج کے چار بنیادی اعمال انجام دینے ہوتے ہیں۔ وہ اعمال یہ ہیں: بڑے جمرے کو کنکریاں مارنا، قربانی کرنا، حلق یا قصر کرنا اور بیت اللہ کا فرض طواف کرنا۔

۲۔ یہ دن سال کا سب سے بڑا، یعنی عظیم ترین دن ہے۔ عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«إِنَّ أَعْظَمَ الأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ»

’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے، پھر گیارہ تاریخ کا دن۔‘[3]

کیونکہ اس دن نماز اور قربانی جمع ہو گئی ہیں۔ یہ دونوں اعمال نماز اور صدقے سے افضل ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے، ’میں نے آپ کو کوثر[4] عطا کی ہے، لہٰذا آپ اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے شکرانے کے طور پر نماز ادا کریں اور قربانی کریں۔‘[5]

[1]۔ سورۃ التوبہ: ۳۔

[2]۔ ابو داؤد: ۱۹۴۵

[3]۔ ابو داؤد: ۱۷۶۵؛ مسند احمد: ۱۹۰۹۸۔

[4]۔ بہت زیادہ بھلائی اور جنت کی ایک خاص نہر۔ (تفسیر اضواء البیان میں سورۃ الکوثر کی تفسیر)۔

[5]۔ لطائف المعارف: ۲۸۲-۲۸۳۔