براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۱۰ ذوالحجہ

باب کے صفحات

باب 9 از 12

۱۰ ذوالحجہ

ہدی یا قربانی کے جانور سے متعلق ہدایات

6 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 10 ستمبر، 2026

۱. ہدی یا قربانی کا جانور پالتو چوپایوں میں سے ہونا چاہیے، مثلاً اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری۔

۲. ایک اونٹ یا گائے میں سات یا اس سے کم حاجی شریک ہو سکتے ہیں۔ بکری اور بھیڑ میں شرکت کی گنجائش نہیں۔ حاجی صاحبان کے لیے ایک سے زیادہ ہدی ذبح کرنے، بلکہ ایک سے زیادہ قربانیاں کرنے کی بھی گنجائش ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی طرف سے ایک سو اونٹ ذبح کیے تھے۔[1]

۳. اونٹ کی عمر پانچ سال، گائے کی دو سال اور بکری کی ایک سال ہونی چاہیے، البتہ بھیڑ کی عمر چھ ماہ ہو تو بھی کافی ہے۔

۴. ذبح کرتے وقت درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:

«بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ ، اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي».

(بسم اللہ واللہ اکبر، اللہم منک ولک، اللہم تقبل منی۔)

’اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ! یہ میری طرف سے اور تیری ہی رضا کے لیے ہے۔ اے اللہ! اسے میری طرف سے قبول فرما۔‘[2]

۵. ہدی یا قربانی کے جانور کو ذبح یا نحر کرتے وقت گائے اور بکری کو بائیں کروٹ قبلہ رخ لٹا کر ذبح کرنا سنت ہے، جبکہ اونٹ کو کھڑی حالت میں اس کی بائیں ٹانگ باندھ کر نحر کرنا سنت ہے۔[3]

۶. افضل یہ ہے کہ حاجی صاحب اپنی ہدی اپنے ہاتھ سے ذبح کریں، لیکن موجودہ حالات میں اکثر ایسا ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ ذبح کرنے کی جگہ بہت دور ہوتی ہے۔ مزید برآں وہاں کے راستے بھی اجنبی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ خود یہ مشکل کام کرنے کی کوشش میں حج کے دیگر فرض اعمال میں خلل نہ پڑے۔ اس لیے ہدی ذبح کرنے کے لیے درج ذیل طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کریں۔

بینک کے ذریعے ہدی ذبح کرنے کا انتظام کرنا۔ اس صورت میں حج سے پہلے سعودی عرب میں حکومت سے منظور شدہ بینک کے ذریعے ہدی کی رقم جمع کرا کے انہیں وکیل بنا سکتے ہیں۔ وہ سرکاری نگرانی میں علما کی ہدایات کے مطابق درست طریقے سے آپ کی ہدی ذبح کرنے کا کام مکمل کریں گے۔ اس صورت میں ترتیب، یعنی اس دن کے اعمال کی باہمی ترتیب برقرار رکھنا ضروری نہیں، کیونکہ وکیل مقرر کرنے کے بعد آپ ذمہ داری سے سبک دوش ہو چکے ہیں۔ لہٰذا رمی کرنے کے بعد آپ کسی تاخیر یا تردد کے بغیر سر منڈوا کر یا بال چھوٹے کروا کر حلال ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص اگر آپ بیلٹی حاجی ہیں تو یہی طریقہ آپ کے لیے زیادہ موزوں ہے، کیونکہ بیلٹی حاجیوں کی ہدی کی رقم ہر ایک کو واپس دے دی جاتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بہت سے بددیانت لوگ حاجیوں کی رقم ہتھیانے کے لیے طرح طرح کے لالچ دیتے ہیں، جس کے باعث بہت سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔

نان بیلٹی حاجی مختلف قافلوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں گروپ لیڈر ہدی ذبح کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اس صورت میں اطمینان کے لیے چند قابل اعتماد نوجوان حاجیوں کو گروپ لیڈر کے ساتھ بھیج دینا چاہیے، جو موقع پر ہدی کی خریداری اور اس کے ذبح کے عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے حاجیوں کو اس کی اطلاع دیں۔

اور اگر مکہ میں کسی کے قابل اعتماد رشتہ دار موجود ہوں تو ان کے ذریعے بھی ہدی ذبح کروائی جا سکتی ہے۔ تاہم اس صورت میں یہ دیکھنا چاہیے کہ جس شخص کے ذریعے ہدی ذبح کروانے کا انتظام کیا جا رہا ہے، اس کے پاس کافی وقت ہے یا نہیں، کیونکہ حج کے موسم میں مکہ میں رہنے والے لوگ مختلف کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔

۷. حدیث کے مطابق ہدی ذبح کرنے کا وقت چار دن ہے: قربانی کا دن، یعنی ۱۰ ذوالحجہ، اور اس کے بعد کے تین دن۔

۸. افضل یہ ہے کہ منیٰ میں ذبح کیا جائے، البتہ مکہ کے حدودِ حرم میں کسی بھی جگہ ذبح کرنا جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ»

’منیٰ کی تمام جگہ قربانی کی جگہ ہے اور مکہ کی ہر گلی، راستہ اور قربانی کی جگہ ہے۔‘[4]

۹. قربانی کرنے والے کے لیے اپنی ہدی کا گوشت کھانا سنت ہے، کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے:

«ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلاَ مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا»

’پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانور ذبح کرنے کی جگہ تشریف لے گئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے۔ اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ کو ذبح کرنے کے لیے دیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے باقی اونٹ ذبح کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنی ہدی میں شریک کر لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اونٹ سے ایک حصہ کاٹ کر لانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد تمام حصوں کو ایک ساتھ پکایا گیا۔ آپ نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا۔‘[5]

۱۰. حرم کے باشندوں اور حدودِ حرم میں رہنے والے مسکینوں میں گوشت تقسیم کیا جا سکتا ہے، لیکن قصائی کو اس گوشت میں سے اس کے کام کی اجرت نہیں دی جا سکتی، بلکہ اسے کسی اور چیز سے اجرت دینی ہوگی۔ البتہ اگر قصائی غریب ہو تو اجرت سے کوئی تعلق رکھے بغیر اسے یہ گوشت دیا جا سکتا ہے۔

۱۱. حج تمتع یا حج قران کرنے والے کو اگر ہدی میسر نہ ہو یا وہ ہدی خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات، مجموعی طور پر دس روزے رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٞ كَامِلَةٞۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ ﴾ [البقرة: ١٩٦]

’پھر جو شخص عمرہ کے بعد حج ادا کر کے تمتع کرے، وہ ہدی کا جو جانور آسانی سے میسر ہو، اسے ذبح کرے۔ لیکن جسے وہ میسر نہ ہو، وہ حج کے دوران تین دن اور جب تم واپس لوٹو تو سات دن روزے رکھے۔ یہ پورے دس دن ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام کے باشندے نہ ہوں۔‘[6]

حج کے دنوں میں تین دن سے مراد حج کے دوران یا حج کے مہینے میں تین دن ہیں، مثلاً ۶، ۷، ۸ ذوالحجہ یا ۷، ۸، ۹ ذوالحجہ، یا ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ۔ البتہ قربانی کے دن روزہ نہیں رکھا جا سکتا۔ گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھے گا۔ ان سات روزوں میں تسلسل برقرار رکھنا واجب نہیں۔ بیماری یا کسی عذر کی وجہ سے روزے رکھنے میں تاخیر ہو جائے تو دم واجب نہیں ہوگا۔

[1]. اپنے ہاتھ سے ۶۳ اور باقی علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے۔ مسلم: ۱۲۱۷۔

[2]. مسلم: ۳/۱۵۵۷؛ بیہقی: ۹/۲۸۷۔

[3]. بخاری: ۳/۵۵۳؛ مسلم: ۲/۹۵۶۔

[4]. ابو داؤد: ۲۳۲۴۔

[5]. مسلم: ۳۰۰۹۔

[6]. البقرہ: ۱۹۶۔