۱۔ سر منڈوانے یا بال چھوٹے کرنے کے لیے احرام کی حالت میں ہونا یا نہ ہونا کوئی شرط نہیں۔ یعنی حاجی صاحب اپنا سر خود بھی مونڈ سکتے ہیں یا اپنے بال خود چھوٹے کر سکتے ہیں۔ خود حلال ہوئے بغیر بھی کسی دوسرے کا سر مونڈ سکتے ہیں یا اس کے بال چھوٹے کر سکتے ہیں۔
۲۔ پورا سر منڈوانا ہوگا یا پورے سر کے بال چھوٹے کرنے ہوں گے۔ محض چند بال کاٹ دینا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اسے نہ سر منڈوانا کہا جا سکتا ہے اور نہ بال چھوٹے کرنا۔
۳۔ سر منڈوانے یا سر کے بال چھوٹے کرنے کے بجائے کسی اور چیز کو اس کا قائم مقام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
۴۔ قربانی کے آخری دن تک سر منڈوانے میں تاخیر کرنا جائز ہے۔
۵۔ خواتین پورے سر کے بالوں میں سے ایک انگلی کے اگلے پورے، یعنی تقریباً ۲ سینٹی میٹر کے برابر بال چھوٹے کریں گی۔
۶۔ کنکریاں مارنے، جانور ذبح کرنے اور سر منڈوانے یا بال چھوٹے کرنے کے بعد حاجی صاحب کے لیے جماع کے علاوہ احرام سے متعلق دیگر تمام ممنوع امور حلال ہو جائیں گے۔
۷۔ اب سے حاجی صاحب سلے ہوئے کپڑے پہن سکتے ہیں، خوشبو استعمال کر سکتے ہیں وغیرہ۔ البتہ میاں بیوی کا بوس و کنار، جماع وغیرہ ابھی جائز نہیں ہوگا۔ یہ امور صرف طوافِ افاضہ یا طوافِ زیارت کے بعد جائز ہوں گے۔ تب حاجی صاحب مکمل طور پر حلال ہو جائیں گے۔