مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد بعض لوگ اس شک میں مبتلا رہتے ہیں کہ نہ جانے کہیں کوئی غلطی ہوئی یا نہیں۔ بہت سے گروپ لیڈر حاجی صاحبان کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ ممکن ہے کوئی غلطی یا کوتاہی ہو گئی ہو، اس لیے غلطی کے کفارے کے طور پر ایک دم[1] دے دیں۔ بلاشبہ ایسا کرنا شریعت کے خلاف ہے، کیونکہ اس بات کا یقین یا غالب گمان ہوئے بغیر کہ آپ نے کوئی واجب ترک کیا ہے، آپ اپنے حج کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ اگر آپ کو واقعی شک ہو تو اہلِ علم علما سے اچھی طرح دریافت کریں۔ اگر وہ کہیں کہ آپ پر دم واجب ہو گیا ہے تو صرف دم دے کر اس کی تلافی کر لیں، ورنہ نہیں۔ محض شک کی بنیاد پر دم دینے کا اسلام میں کوئی حکم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی کچھ بھی کہے، ایسی باتوں پر ہرگز کان نہ دھریں۔
[1]۔ اسے دمِ خطا، یعنی غلطی کا کفارہ کہا جاتا ہے۔