تلبیہ پڑھتے ہوئے جمرات کی طرف آگے بڑھیں۔ منیٰ کی جانب سے تیسرے اور مکہ کی جانب سے پہلے جمرے—جسے جمرۃ العقبہ یا جمرۃ الکبریٰ (بڑا جمرہ) کہا جاتا ہے—کو ۷ کنکریاں ماریں۔ خانۂ کعبہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب رکھ کر کھڑے ہوں، اس طرح کھڑا ہونا سنت ہے۔ البتہ دوسری تمام سمتوں میں کھڑے ہو کر بھی کنکریاں مارنا جائز ہے۔ اللہ اکبر (اللَّهُ أَكْبَرُ) کہتے ہوئے ہر کنکری الگ الگ ماریں۔ خشوع و خضوع کے ساتھ کنکریاں ماریں۔ یاد رکھیں کہ کنکریاں ہدف، یعنی ستون یا حوض کے اندر گریں۔ کنکریاں مارنا اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،
﴿وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ ٣٢ ﴾ [الحج: ٣٢]
’اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو بلاشبہ یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔‘[1] عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
«إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْىُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللهِ».
’بیت اللہ کے طواف، صفا و مروہ کی سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا حکم اللہ کا ذکر قائم کرنے ہی کے مقصد سے دیا گیا ہے۔‘[2] اس لیے کنکریاں مارتے وقت سکون و اطمینان برقرار رکھنا ضروری ہے، تاکہ اللہ کی نشانی کی بے حرمتی نہ ہو۔ غصے اور اشتعال کے ساتھ جوتا یا بڑا پتھر مارنا ہرگز مناسب نہیں، بلکہ یہ ایک سنگین غلطی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جمرات پر شیطان بندھا ہوا ہے، یہ درست نہیں۔ ایسی باتوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
[1]. الحج: ۳۲۔
[2]. ابو داؤد: ۱۸۹۰۔