براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۱۰ ذوالحجہ

باب کے صفحات

باب 9 از 12

۱۰ ذوالحجہ

سر منڈوانے یا بال چھوٹے کرنے کا طریقہ

2 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 11 ستمبر، 2026

۱۔ خواہ سر منڈایا جائے یا بال چھوٹے کیے جائیں، پورے سر پر ایسا کرنا سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا سر منڈایا تھا۔ سر کے کچھ حصے کو منڈانا یا اس کے بال چھوٹے کرنا اور کچھ حصہ چھوڑ دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔ نافع رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قزع) قَزَعٌ سے منع فرمایا ہے۔‘ قزع کے بارے میں نافع رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بچے کے سر کا کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ چھوڑ دینا۔[1]

۲۔ قصر یعنی بال چھوٹے کرنے کا مطلب پورے سر سے بال کاٹنا ہے۔ ابن منذر کہتے ہیں کہ جتنی مقدار کاٹنے سے بال چھوٹے کرنا کہا جاتا ہو، اتنی مقدار کاٹ لینا کافی ہوگا۔[2]

۳۔ اگر کسی کا سر گنجا ہو تو سر پر بلیڈ یا استرا پھیر دینے سے واجب ادا ہو جائے گا۔

۴۔ خواتین کے لیے بالوں کے گچھے سے ہاتھ کی انگلی کے ایک پور کے برابر بال کاٹ لینا کافی ہے۔ خواتین کے لیے حلق نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ ، وَإِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيْرُ».

’خواتین کے بارے میں سر منڈانے کا حکم نہیں ہے، بلکہ ان کے لیے بال چھوٹے کرنے کا حکم ہے۔‘[3]

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،

«نَهَى رَسُوْلُ الله صلى الله عليه وسلم أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا».

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا ہے۔‘[4]

لہٰذا خواتین کے لیے طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے سر کے تمام بال ایک ساتھ پکڑ کر، یا ہر چوٹی سے ایک انگلی کے پہلے پور کے برابر کاٹیں۔

۵۔ سر منڈانے کے بعد جسم کے دیگر حصوں کی پراگندگی دور کرنا سنت ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن کاٹے تھے۔[5] ابن عمر رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کے بعد مونچھیں کاٹتے تھے۔[6] اسی طرح بغل اور زیر ناف بال صاف کرنا بھی مستحب ہے، کیونکہ یہ قرآنِ کریم کے اس حکموليَقْضُوْا تَفَثَهُمْ ’اور انہیں چاہیے کہ اپنی میل کچیل دور کریں۔‘[7] کے تحت آتا ہے۔

[1]۔ مسلم: ۳۹۵۹۔

[2]۔ سید سابق: فقہ السنۃ، ۱/۷۴۳۔

[3]۔ ابو داؤد: ۱۹۸۵۔

[4]۔ ترمذی: ۹۱۵۔

[5]۔ سید سابق: حوالۂ سابق، ۱/۷۴۳۔

[6]۔ بیہقی: ۹۱۸۶۔

[7]۔ الحج: ۲۹۔