سر منڈوانے کی فضیلت کے بارے میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، مثلاً:
جو لوگ سر منڈوائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، قَالَهَا ثَلاَثًا، قَالُوا وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ وَلِلْمُقَصِّرِينَ»
’اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما۔‘ صحابہ نے عرض کیا: بال کتروانے والوں کی بھی۔ آپ نے فرمایا: ’اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما۔‘ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: بال کتروانے والوں کی بھی۔ تب آپ نے فرمایا: ’بال کتروانے والوں کی بھی (مغفرت فرما)۔‘[1]
اس میں آپ نے سر منڈوانے والوں کے لیے تین مرتبہ دعا فرمائی، جبکہ بال کتروانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا فرمائی۔
جو لوگ سر منڈوائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رحمت کی دعا فرمائی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِينَ».
’اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے۔‘ صحابہ نے عرض کیا: ’اے اللہ کے رسول! بال کتروانے والوں پر بھی؟‘ آپ نے فرمایا: ’اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے۔‘ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بال کتروانے والوں پر بھی؟ آپ نے فرمایا: ’اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرمائے۔‘ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بال کتروانے والوں پر بھی؟ آپ نے فرمایا: ’بال کتروانے والوں پر بھی۔‘[2]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنا سر منڈوایا ہے۔ حدیث میں آیا ہے:
«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاَّقِ خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ الأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ».
’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشریف لائے، جمرہ کے پاس آکر کنکریاں ماریں۔ پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور قربانی کی۔ اس کے بعد حجام سے فرمایا: لو۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے سر کی دائیں جانب اشارہ فرمایا، پھر بائیں جانب۔ اس کے بعد وہ بال لوگوں کو دینے لگے۔‘[3]
اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا، وہی سب سے افضل عمل ہے۔
سر منڈوانے کی وجہ سے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملتی اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَأَمَّا حَلْقُكَ لِرَأْسِكَ فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ وَتَسْقُطُ سَيِّئَةٌ»
’اور تمہارا سر منڈوانا، اس میں ہر بال کے بدلے تمہارے لیے ایک ثواب اور ایک گناہ کی مغفرت ہے۔[4]
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَأَمَّا حِلاقُكَ رَأْسَكَ ، فَلَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ ، وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَتِ الذُّنُوبُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِذًا يُذْخَرُ لَكَ فِي حَسَنَاتِكَ»
’اور تمہارے سر منڈوانے کے نتیجے میں منڈائے گئے ہر بال کے بدلے تمہارے لیے ایک ثواب ہے اور ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر گناہ اس سے کم ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تمہارے نیک اعمال میں جمع کر دیا جائے گا۔[5]
قیامت کے دن منڈایا گیا ہر بال نور بن جائے گا۔ عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأَسَكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَعْرِكَ شَعْرَةٌ تَقَعُ فِي الأَرْضِ إِلاَّ كَانَتْ لَكَ نُوْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ».
’اور تمہارے سر منڈوانے کے نتیجے میں منڈائے ہوئے بالوں میں سے جو کچھ زمین پر گرے گا، اس کا ہر بال قیامت کے دن تمہارے لیے نور بن جائے گا۔‘[6]
[1]۔ بخاری: ۱۷۲۸۔
[2] ابن ماجہ: ۳۰۴۴۔
[3]۔ مسلم: ۲۲۹۸۔
[4]۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۱۱۱۲۔
[5]۔ کشف الاستار (مسند بزار): ۱/۴۱۱۔ صحیح الترغیب، حدیث نمبر ۱۱۱۳۔
[6]۔ طبرانی فی الکبیر: ۱۳۵۶۶۔