براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۱۰ ذوالحجہ

باب کے صفحات

باب 9 از 12

۱۰ ذوالحجہ

پہلا عمل: جمرۃ العقبہ پر کنکریاں مارنا

1 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 10 ستمبر، 2026

جمرات کو کنکریاں مارنے کی فضیلت

۱۔ کنکریاں مارنے کا ثواب آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیا جائے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَإِنَّهُ مَذْخُورٌ لَكَ»

’اور تمہارا کنکریاں مارنا، اسے تمہارے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔[1]

۲۔ کنکریاں مارنے کا ثواب آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والا ثواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«وَأَمَّا رَمِيْكَ الْجِمَارَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ( فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)»

’اور جمرات کو کنکریاں مارنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے: ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے بدلے ان کے لیے آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔“[2],[3]

۳۔ پھینکی گئی ہر کنکری ایک کبیرہ گناہ مٹا دے گی۔

«وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا تَكْفِيْرُ كَبِيْرَةٍ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ»

’اور تمہارا جمرات کو کنکریاں مارنا، اس میں تمہاری پھینکی ہوئی ہر کنکری کے بدلے ایک ہلاک کرنے والا کبیرہ گناہ مٹا دیا جائے گا۔‘[4]

۴۔ پھینکی گئی ہر کنکری قیامت کے دن نور ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إذا رَمَيْتَ الجِمارَ كانَ لَكَ نُوراً يَوْمَ القِيامَةِ»

’جب تم کنکریاں مارتے ہو تو یہ قیامت کے دن تمہارے لیے نور ہوگا۔‘[5]

[1]۔ معجم کبیر: ۱۳۳۹۰۔

[2]۔ السجدہ: ۱۷۔

[3]۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۱۱۱۳۔

[4]۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۱۱۱۲۔

[5]۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۱۵۵۷۔