ابتدائی حلال ہونا:
حجِ تمتع اور قران کرنے والا کنکریاں مارنے، سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے اور ہدی ذبح کرنے کے ذریعے ابتدائی طور پر حلال ہو جائے گا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«اذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ وَذَبَحْتُمْ وَحَلَقْتُمْ ، فَقَدْ حَل لَكُمْ كُلُّ شَيْءِ»
’جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو، ذبح کر لو اور حلق کر لو تو تمہارے لیے ہر چیز حلال ہو جائے گی۔‘[1] اور حجِ افراد کرنے والا سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے کے ذریعے حلال ہو جائے گا۔
ابتدائی حلال ہونے کے بعد بیوی سے جماع اور جنسی طرزِ عمل کے سوا، احرام کی وجہ سے ممنوع تمام چیزیں جائز ہو جائیں گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءِ الا النِّسَاءَ».
’بیویوں کے سوا اس کے لیے ہر چیز جائز ہو جائے گی۔‘[2]
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سمیت بہت سے اہلِ علم نے مذکورہ بالا رائے اختیار کی ہے۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف کنکریاں مارنے ہی سے ابتدائی طور پر حلال ہو جائے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ان کی رائے کی دلیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
«إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَىْءٍ إِلاَّ النِّسَاءَ».
’جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو بیویوں کے سوا تمہارے لیے ہر چیز حلال ہو جائے گی۔‘[3]
شافعیہ کے نزدیک کنکریاں مارنے اور سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے کے ذریعے ابتدائی طور پر حلال ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف حنابلہ کے نزدیک کنکریاں مارنے، سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے اور بیت اللہ کا فرض طواف کرنے، ان تین اعمال میں سے کوئی بھی دو اعمال کرنے کے ذریعے ابتدائی طور پر حلال ہو جائے گا۔
مکمل طور پر حلال ہونا:
کنکریاں مارنے، جانور ذبح کرنے، سر منڈوانے یا بال چھوٹے کروانے، بیت اللہ کا فرض طواف اور سعی کرنے کے یہ تمام اعمال مکمل کر لینے پر حاجی صاحب پوری طرح حلال ہو جائے گا۔ اس وقت بیوی سے جنسی تعلق بھی اس کے لیے جائز ہو جائے گا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
«فَإِذا رَمَى الْجَمْرَة الْكُبْرَى حل لَهُ كل شَيْء إِلَّا النِّسَاء حَتى يَزُورَ البَيتَ»
’اور جب وہ (حاجی) بڑے جمرہ کو کنکریاں مار لے تو اس کے لیے ہر چیز حلال ہو جائے گی، البتہ بیت اللہ کی زیارت کرنے تک بیویاں حلال نہیں ہوں گی۔‘[4]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکمل طور پر حلال اسی وقت ہوگا جب بیت اللہ کا طواف، یعنی طوافِ زیارت مکمل کر لے گا۔
[1]۔ صحیح ابو داؤد: ۶/۲۱۹۔
[2]۔ صحیح ابو داؤد: ۶/۲۱۹۔
[3]۔ صحیح ابن ماجہ: ۲/۱۷۹۔
[4]۔ صحیح ابو داؤد: ۶/۲۲۰۔