پھر صفا پہاڑی کے پاس جائیں اور اس پر چڑھیں یا اس کے نیچے کھڑے ہوں۔ اگر ممکن ہو تو پہاڑی کے کچھ حصے پر چڑھنا بہتر ہے۔ پہلے چکر کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھیں:
﴿۞إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلۡمَرۡوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِۖ﴾ [البقرة:158]
(اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ)
”بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ [سورۃ البقرہ: ۱۵۸]
اس کے بعد کعبہ کو سامنے رکھ کر دعا کرنے والے کی طرح دونوں ہاتھ اوپر اٹھائیں، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں اور تین مرتبہ تکبیر کہیں (اللہ اکبر کہیں)۔ تین تین مرتبہ دعا کرنا سنت ہے۔ پھر درج ذیل دعا تین مرتبہ پڑھیں:
«لاَ إِلهَ إِلا اللهَ وَحْدَه لا شَرِيْكَ لَه لَهُ الْمُلْكُ وَلَه الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر لا إِلهَ إِلا الله وَحْدَه أَنْجَزَ وَعْدَه وَنَصَر عَبْدَه وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَه»
(لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر، لا الٰہ الا اللہ وحدہ، انجز وعدہ، ونصر عبدہ، وھزم الاحزاب وحدہ)
”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام بادشاہی اور حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کو فتح عطا کی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکروں کو شکست دی۔“
اس دعا کا کچھ حصہ پڑھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ تاہم چونکہ شریعت میں یہاں کثرت سے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے یہاں ہر قسم کی دعائیں کر سکتے ہیں۔
پھر صفا سے اتر کر مروہ کی طرف جائیں۔ سعی کے دوران مرد دونوں سبز روشنیوں کے درمیان تیز چلیں اور اس سے پہلے اور بعد میں معمول کی رفتار سے چلیں۔ خواتین کہیں بھی تیز نہ چلیں، کیونکہ خواتین پردہ کریں گی اور تیز چلنا خواتین کے پردے کے خلاف ہے۔
پھر جب مروہ کے پاس پہنچیں تو اس پر چڑھیں یا نیچے کھڑے ہوں، اللہ کی حمد بیان کریں اور یہاں بھی اسی طرح کریں جس طرح صفا پر کیا تھا۔ یعنی مروہ پر چڑھنے کے بعد کعبہ کو سامنے رکھ کر دعا کرنے والے کی طرح دونوں ہاتھ اوپر اٹھائیں، اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں اور تین مرتبہ (اللہ اکبر) تکبیر کہیں۔ پھر درج ذیل دعا تین مرتبہ پڑھیں:
«لاَ إِلهَ إِلا اللهَ وَحْدَه لا شَرِيْكَ لَه لَهُ الْمُلْكُ وَلَه الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر لا إِلهَ إِلا الله وَحْدَه أَنْجَزَ وَعْدَه وَنَصَر عَبْدَه وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَه»
(لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر، لا الٰہ الا اللہ وحدہ، انجز وعدہ، ونصر عبدہ، وھزم الاحزاب وحدہ)
”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام بادشاہی اور حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کو فتح عطا کی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکروں کو شکست دی۔“
صفا کی طرح مروہ بھی کثرت سے دعا کرنے کی جگہ ہے۔ یہاں ہر قسم کی دعائیں پڑھ سکتے ہیں۔
البتہ یہاں ابتدا میں بیان کی گئی قرآن کی آیت نہ پڑھیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کی وہ آیت صرف صفا پہاڑی پر چڑھتے وقت پڑھی جاتی ہے۔
پھر مروہ سے اتریں اور جہاں معمول کی رفتار سے چلنا ہو وہاں معمول کے مطابق چلیں، اور جہاں تیز چلنا ہو وہاں تیز چلیں۔ اس طرح صفا پہاڑی تک پہنچیں۔ اسی طرح سات مرتبہ سعی کریں۔ صفا سے مروہ جانا ایک چکر ہے اور مروہ سے صفا پہاڑی تک واپس آنا دوسرا چکر ہے۔ طواف کی طرح اگر کوئی شخص کسی چیز پر سوار ہو کر سعی کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، خصوصاً جب اسے اس کی ضرورت ہو۔
طواف کی طرح سعی کے لیے بھی کوئی مخصوص واجب ذکر نہیں ہے، بلکہ جو بھی ذکر، دعا اور تلاوتِ قرآن اس کے لیے آسان ہو، وہ پڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اذکار اور دعائیں ثابت ہیں، ان کا اہتمام کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح ہر قسم کی ناپاکی سے پاک ہونا بھی مستحب ہے۔ لیکن اگر کوئی ناپاکی کی حالت میں بھی سعی کرے تو اس کی سعی صحیح ہوگی، اس میں کوئی حرج نہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں عمرہ کرنے کا طریقہ - ڈاکٹر ابو بکر محمد زکریا