میقات سے پہلے احرام پہننا
مرد ہر قسم کے سلے ہوئے کپڑے (مثلاً قمیص، پاجامہ، بنیان وغیرہ جو لباس کی شکل میں تیار کیے گئے ہوں) پہننے سے پرہیز کرے گا۔ ایک تہبند اور ایک چادر پہنے گا اور اپنا سر کھلا رکھے گا۔ تاہم احرام کی دونوں چادروں کا سفید اور صاف ہونا مستحب ہے۔
البتہ عورت اپنے عام لباس ہی میں احرام باندھے گی، اور اس بات کا خیال رکھے گی کہ لباس کسی قسم کی چمک دمک اور شہرت کا باعث بننے والا نہ ہو۔
میقات پر عمرے کی نیت کرکے تلبیہ پڑھنا
پھر عمرے کے اعمال میں داخل ہونے کے لیے دل میں نیت (پختہ ارادہ) کریں گے، اور زبان سے کہیں گے:
لَبَّيْكَ عُمْرَةً
(لبیک عمرۃً)
”میں عمرہ ادا کرنے کے لیے آپ کے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔“
یا کہیں گے:
اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً
(اللّٰہم لبیک عمرۃً)
”اے اللہ! میں عمرہ ادا کرنے کے لیے آپ کے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔“
اگر کسی دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کرنا چاہیں (بشرطیکہ آپ پہلے اپنا عمرہ ادا کر چکے ہوں) تو کہیں گے:
اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً مِنْ فُلانٍ
(اللّٰہم لبیک عمرۃً من فلان)
”اے اللہ! میں فلاں کی طرف سے (اس کا نام لے کر) عمرہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہوں۔“
اگر محرم کو یہ خوف ہو کہ بیماری یا دشمن کے خوف کی وجہ سے وہ عمرہ ادا نہیں کر سکے گا تو اس کے لیے احرام باندھتے وقت شرط لگا لینا جائز ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے:
«فِإِنْ حَبَسَنِيْ حَابِسٌ فَمَحَلِّيْ حَيْثُ حَبَسْتَنِيْ»
(فَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَمَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي)
”اگر کوئی رکاوٹ مجھے روک دے تو جہاں مجھے روک دیا جائے گا، وہیں میں حلال ہو جاؤں گا۔“
خاتون صحابیہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں حج کرنا چاہتی ہوں، لیکن مجھے بیمار ہو جانے کا خوف ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
«حُجِّي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي»
”حج شروع کرو اور شرط لگا لو، اور کہو: اگر کوئی رکاوٹ مجھے روک دے تو جہاں مجھے روک دیا جائے گا، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی۔“ [مسلم: ۱۲۰۷]
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ پڑھیں گے، اور وہ یہ ہے:
«لَبَّيْكَ اللّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ»
(لبیک اللّٰہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک)
”عمرے کے لیے میں تیرے دربار میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں آپ کے دربار میں حاضر ہوں، میں آپ کے در پر حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں آپ کے دربار میں حاضر ہوا ہوں۔ ہر قسم کی حمد اور نعمتیں سب آپ ہی کے لیے ہیں، بادشاہی بھی آپ ہی کی ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔“
مذکورہ دعا مرد بلند آواز سے پڑھیں گے، جبکہ عورتیں آہستہ آواز میں پڑھیں گی۔ اس کے بعد کثرت سے تلبیہ پڑھیں گے اور دعا، ذکر اور استغفار کریں گے۔
مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد اگر ممکن ہو تو غسل کریں گے، پھر مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں رکھ کر درج ذیل دعا پڑھیں گے:
«بِسْمِ اللهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلى رَسُوْلِ اللهِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ»
(بسم اللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ، أعوذ باللہ العظیم وبوجہہ الکریم وسلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم۔ اللّٰہم افتح لی أبواب رحمتک)
”اللہ کے نام سے، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ میں شیطان مردود سے عظمت والے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اس کے معزز چہرے اور اس کی ازلی قدرت کے وسیلے سے۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجیے۔“
قرآن و سنت کی روشنی میں عمرہ کرنے کا طریقہ - ڈاکٹر ابو بکر محمد زکریا