براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

۸ ذوالحجہ

باب کے صفحات

8 ذوالحجہ: (یومِ ترویہ) مکہ سے منیٰ روانگی

3 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 10 ستمبر، 2026

حج کے اصل اعمال 8 ذوالحجہ سے شروع ہوتے ہیں۔ جو شخص حج کی نیت سے آیا ہے، اگر وہ حجِ تمتع کرنے والا ہے تو وہ پہلے ہی عمرہ مکمل کر چکا ہے۔ اب اسے صرف حج کے اعمال ادا کرنے ہیں۔ وہ آئندہ اعمال کو درج ذیل ترتیب کے مطابق انجام دے گا۔

1. یوم الترویہ[1] یعنی 8 ذوالحجہ کو حجِ تمتع کرنے والے اور اہلِ مکہ میں سے حج کا ارادہ رکھنے والے لوگ حج کا احرام باندھ کر منیٰ روانہ ہوں گے۔ دوسری طرف جو لوگ میقات سے باہر سے حجِ افراد یا حجِ قران کا احرام باندھ کر آئے ہیں، وہ احرام ہی کی حالت میں منیٰ روانہ ہوں گے۔

2. نئے سرے سے احرام باندھنے سے پہلے احرام کے مسنون اعمال مثلاً صفائی ستھرائی، غسل اور خوشبو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، جیسا کہ اس سے پہلے میقات سے عمرے کا احرام باندھتے وقت کیا تھا۔

3. اس کے بعد اپنی اپنی قیام گاہ ہی سے احرام کے کپڑے پہنیں گے۔

4. پھر اگر کسی فرض نماز کے بعد احرام باندھنا ممکن ہو تو بہتر ہے۔ اور اگر اس وقت کوئی نماز نہ ہو تو وضو کرنا ممکن ہونے کی صورت میں وضو کے بعد دو رکعت تحیۃ الوضو کی نماز پڑھ کر احرام باندھنا بہتر ہے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، صرف نیت کر لینا کافی ہوگا۔

5. پھر دل میں حج کی نیت کرکے لَبَّيْكَ حَجًّا (لبیک حجاً) کہتے ہوئے حج کے اعمال شروع کریں گے۔

6. اگر حج مکمل کرنے میں کسی رکاوٹ کا اندیشہ ہو تو تلبیہ کے فوراً بعد کہیں گے:

اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي

(اللّٰہم محلی حیث حبستنی)

’اے اللہ! جہاں آپ مجھے روک دیں گے، وہیں میں احرام سے حلال ہو جاؤں گا۔‘[2]

7. اگر حجِ بدل ہو تو دل میں اس کی نیت کرکے جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جا رہا ہے، اس کی جانب سے کہیں گے:

عَنْ .. لَبَّيْكَ حَجًّا (لبیک حجاً عن....) (فلاں مرد/عورت کی طرف سے لبیک کہہ رہا ہوں۔) [3]

8. منیٰ پہنچ کر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن فجر کی نماز ادا کریں گے۔ یہ نمازیں منیٰ میں ادا کرنا سنت ہے۔ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کریں گے۔ چار رکعت والی نمازوں کو دو دو رکعت پڑھیں گے۔ یہاں نمازیں جمع نہیں کریں گے، یعنی دو وقت کی نمازیں ایک ساتھ ادا نہیں کریں گے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو وقت کی نمازیں ایک ساتھ ادا نہیں کیں۔

9. مستحب یہ ہے کہ اس دن آرام کرکے حج کی تیاری کی جائے، ذکر و استغفار کیا جائے اور کثرت سے تلبیہ پڑھا جائے۔ وقت اور موقع ملے تو حج کے مسائل کا مطالعہ کریں۔ علمائے کرام کے وعظ و نصیحت اور حج سے متعلق تشریح و توضیح سنیں۔

10. 9 ذوالحجہ کی رات منیٰ میں رات گزارنا سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رات منیٰ میں گزاری تھی۔ اگر کسی وجہ سے رات گزارنا ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ نیت کے مطابق ثواب عطا فرمائیں گے۔

[1]۔ 8 ذوالحجہ کو یوم الترویہ کہا جاتا ہے۔ یوم الترویہ کا مطلب پانی پلانے کا دن ہے۔ چونکہ منیٰ میں پانی نہیں تھا، اس لیے اس دن حجاج پانی پی لیتے، اپنے ساتھ بھی لے لیتے اور اپنی سواری کے جانوروں کو بھی پانی پلاتے تھے۔ اسی لیے اس دن کو پانی پلانے کا دن کہا جاتا ہے۔ ابن قدامہ، المغنی: 314۔

[2]۔ بخاری: 5089؛ مسلم: 1207۔

[3]۔ ابو داؤد: 1811؛ ابن ماجہ: 2903۔