حج کے سفر میں بہت سے حاجی صاحبان کو احرام باندھ کر مکہ جا کر عمرہ ادا کرنے کے بعد بار بار عمرہ کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ اس کے حق میں کوئی قابلِ قبول دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا قاعدہ یہ ہے کہ ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے نہ کیے جائیں۔ متعدد عمرے کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ طواف کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے نہیں کیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام نے بھی ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے ادا نہیں کیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ تمتع کرنے والوں کو عمرہ ادا کرنے کے بعد حالتِ حلال میں رہنے کا حکم دیا ہے۔[1]
علاوہ ازیں، ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی میں مجموعی طور پر چار مرتبہ عمرہ کیا۔[2] لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کی غرض سے مکہ کے اندر سے حدودِ حرم سے باہر نکلے ہوں اور پھر عمرہ کیا ہو۔[3]
البتہ حج کے زمانے کے علاوہ سال میں متعدد مرتبہ عمرہ کرنے کی دلیل موجود ہے۔ مکہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سال میں دو عمرے کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سال میں تین عمرے تک بھی کیے ہیں۔[4] علاوہ ازیں، ان سے ایک مہینے میں دو عمرے کرنا بھی منقول ہے۔[5] ایک حدیث میں آیا ہے: ’تم بار بار حج اور عمرہ ادا کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔‘[6] صحابۂ کرام کے بارے میں دیکھا جاتا تھا کہ ایک عمرہ ادا کرنے کے بعد جب ان کے سر کے بال سیاہ ہو جاتے تو دوبارہ عمرہ کرتے، اس سے پہلے نہیں کرتے تھے۔[7] لہٰذا اگر کوئی عمرہ کرنا ہی چاہے تو حج کے بعد کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا تھا۔ لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی ترغیب دی ہو۔[8]
[1]. بخاری: 1568؛ مسلم: 1216۔
[2]. پہلی مرتبہ: عمرۂ حدیبیہ، جسے راستے میں روک دیے جانے کی وجہ سے مکمل نہیں کر سکے، بلکہ وہیں سر منڈوا کر حلال ہو گئے۔ دوسری مرتبہ: عمرۃ القضاء۔ تیسری مرتبہ: جعرانہ سے۔ چوتھی مرتبہ: حجۃ الوداع کے ساتھ۔
[3]. زاد المعاد: 2/92-95۔
[4]. سید سابق، فقہ السنۃ: 7/749۔
[5] زاد المعاد: 2/93۔
[6]. ترمذی: 810؛ نسائی: 2630؛ ابن ماجہ: 2887؛ مسند احمد: 1/25۔
[7]. زاد المعاد: 2/90-95۔
[8]. زاد المعاد: 2/92-95۔