براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج سے پہلے عمرہ

باب کے صفحات

طواف کی بعض غلطیاں اور کوتاہیاں

4 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 9 ستمبر، 2026

۱. طواف کی نیت زبان سے ادا کرنا، مثلاً اس طرح کہنا:

اَللَّهُمَّ إِنِّيْ نَوَيْتُ أَنْ أَطُوْفَ طَوَافَ الْعُمْرَةِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ .

یاد رہے کہ کسی بھی عبادت میں نیت کو زبان سے ادا کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ صرف حج یا عمرہ شروع کرتے وقت پہلی مرتبہ ’لبیک حجاً‘ یا ’لبیک عمرۃً‘ یا ’لبیک حجاً وعمرۃً‘ کہہ کر نیت کرنے کا ذکر حدیث میں آیا ہے؛ اس کے علاوہ کہیں نہیں۔

۲. طواف کے ہر چکر کے لیے الگ مخصوص دعا پڑھنا، حالاں کہ دو رکنوں کے درمیان کے علاوہ کسی اور جگہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مخصوص دعا منقول نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں وارد جامع دعاؤں کے ذریعے دعا کی جائے۔ اسی طرح اپنی زبان میں دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے کوئی بھی پسندیدہ چیز مانگی جائے۔

۳. حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے ازدحام بڑھا کر لوگوں کو تکلیف دینا۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینا سنت ہے، جبکہ لوگوں کو تکلیف دینا حرام ہے۔ اور کسی مسلمان کے لیے سنت پر عمل کرتے ہوئے حرام میں مبتلا ہونا جائز نہیں۔ لہٰذا اگر آسانی سے بوسہ دینا ممکن ہو تو دیں، ورنہ دائیں ہاتھ سے اشارہ کرکے تکبیر کہتے ہوئے طواف مکمل کریں۔

۴. خانۂ کعبہ کے پردے یا مقامِ ابراہیم کو چھونا اور اس کے لیے مخصوص دعا پڑھنا۔ یہ عمل شرعاً ثابت نہیں ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو۔ صحابہ میں سے بھی کسی کے ایسا کرنے کی کوئی مثال نہیں۔ اگر یہ عمل بہتر ہوتا تو وہ یقیناً ہم سے پہلے اسے انجام دیتے۔ رکنِ یمانی کو چھونے کے بعد ہاتھ کو بوسہ دینا یا براہِ راست رکنِ یمانی کو بوسہ دینا سنت کے خلاف ہے۔ اگر رکنِ یمانی کو چھونا ممکن نہ ہو تو اس کی طرف اشارہ کرنا اور تکبیر کہنا شرعاً ثابت نہیں۔ لہٰذا رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے علاوہ بیت اللہ کی کسی اور چیز کو نہ چھوئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں چھوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے تمام ارکان، یعنی تمام کونوں کو چھوا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ’آپ تمام ارکان کو کیوں چھو رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تمام ارکان کو نہیں چھوا تھا؟‘ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’کعبہ کی کسی چیز کو چھوڑنا مناسب نہیں۔‘ یہ سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی:

﴿ لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ﴾ [الاحزاب: ٢١]

’یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔‘ [سورۃ الاحزاب: ۲۱] معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی بات تسلیم کرتے ہوئے کہا: ’آپ نے درست فرمایا۔‘[1]

۵. بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ طواف کی دو رکعت نماز لازماً مقامِ ابراہیم کے پیچھے ہی پڑھنی چاہیے۔ یاد رکھیں، اگر وہاں آسانی سے ادا کرنا ممکن نہ ہو تو مسجدِ حرام میں کسی بھی جگہ، بلکہ حدودِ حرم سے باہر بھی پڑھنے سے ادا ہو جائے گی۔ عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے بھی ایسا کیا ہے۔[2]

۶. طواف کے دوران خواتین کا چہرے کا پردہ کھلا رکھنا اور اپنی زینت ظاہر کرنا۔ یہ مکمل طور پر ممنوع عمل ہے۔ ایسی مقدس جگہ اور عظیم عبادت کے وقت اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کیسے کی جا سکتی ہے؟

۷. طواف کے دوران کعبہ کو بائیں جانب نہ رکھنا، خواہ اس کی کوئی بھی وجہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

«لتأخُذُوا عَنِّى مَنَاسِكَكُمْ».

’اپنے حج کے مناسک مجھ سے سیکھ لو۔‘[3] لہٰذا طواف کے صحیح ہونے کے لیے کعبہ کو بائیں جانب رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

۸. حِجر، یعنی خانۂ کعبہ سے متصل گھری ہوئی جگہ کے اندر سے طواف کیا جائے تو وہ صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ یہ خانۂ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’میں چاہتی تھی کہ خانۂ کعبہ میں داخل ہوکر نماز ادا کروں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حِجر میں لے گئے اور فرمایا:

«صَلِّى فِى الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ فَإِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ».

’اگر تم خانۂ کعبہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو حِجر میں نماز ادا کرلو، کیونکہ یہ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔ (زمانۂ جاہلیت میں) خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت تمہاری قوم (قریش) نے اسے چھوٹا کردیا تھا اور اس حصے کو خانۂ کعبہ سے باہر چھوڑ دیا تھا۔‘[4]

۹. بعض لوگوں کا یہ خیال درست نہیں کہ احرام باندھنے کے بعد سے حج مکمل ہونے تک اضطباع کرنا چاہیے۔ بعض لوگ نماز ادا کرتے وقت بھی حالتِ اضطباع میں رہتے ہیں، یہ بھی درست نہیں؛ کیونکہ نماز کے دوران کندھوں کو ڈھانپنا ہی حکم ہے۔

[1]. مسند احمد: ۱۸۷۷۔

[2]. بخاری: کتاب الحج۔

[3]. مسلم: ۱۲۹۷۔

[4]. ترمذی: ۷۸۶؛ بخاری: ۱۵۸۶؛ مسلم: ۱۳۳۳۔