براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج سے پہلے عمرہ

باب کے صفحات

سر کے بال چھوٹے کروانا یا منڈوانا

1 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 9 ستمبر، 2026

سعی مکمل ہونے کے بعد سر کے بال چھوٹے کروا لیں یا منڈوا لیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر تمتع کرنے والے صحابۂ کرام نے بال چھوٹے کروائے تھے۔ حدیث میں آیا ہے:

«فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوْا»

’پھر تمام لوگ حلال ہو گئے اور انہوں نے اپنے بال چھوٹے کروا لیے۔‘[1] اس بنا پر حج تمتع کرنے والے کے لیے عمرے کے بعد سر کے بال چھوٹے کروانا افضل ہے، تاکہ حج کے بعد سر منڈوایا جا سکے۔ اگر سر پر بال بالکل نہ ہوں تو صرف استرا پھیر لیں۔ بال چھوٹے کروانے یا سر منڈوانے کے بعد غسل کرکے معمول کے سلے ہوئے کپڑے پہن لیں۔ ۸ ذوالحجہ تک حلال حالت میں رہیں۔ خواتین اپنے سر کے بالوں کی ہر لٹ کے سرے سے انگلی کے ایک پورے کے برابر کاٹیں گی، اس سے زیادہ نہیں۔[2]

مذکورہ بالا اعمال مکمل کرنے سے محرم کا عمرہ مکمل ہو جائے گا۔ اگر وہ حج تمتع کرنے والا یا صرف عمرہ کرنے والا ہو تو حالتِ احرام میں جو کچھ اس کے لیے ممنوع تھا، وہ سب حلال ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ حج قران یا حج افراد کرنے والا ہو تو اب نہ بال چھوٹے کروائے گا اور نہ سر منڈوائے گا، بلکہ ۱۰ ذوالحجہ (قربانی کے دن) کنکریاں مارنے کے بعد پہلا تحلل حاصل ہونے تک حالتِ احرام میں رہے گا۔

اس دوران کثرت سے توبہ و استغفار، نماز، صدقہ، طواف وغیرہ نیک اعمال میں مشغول رہیں۔ بالخصوص ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں، جن میں نیک اعمال کرنے سے دوسرے اوقات کی نسبت بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔

[1]۔ مسلم: ۱۲۱۸۔

[2]۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ۳/۱۴۷۔