براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج سے پہلے عمرہ

باب کے صفحات

آبِ زمزم کی فضیلت

1 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 9 ستمبر، 2026

زمزم کا پانی سب سے افضل پانی ہے: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ»

’روئے زمین پر زمزم کا پانی سب سے افضل پانی ہے۔‘[1]

زمزم کا پانی بابرکت ہے: ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ»

’یقیناً یہ بابرکت ہے۔‘[2]

زمزم کے پانی میں غذا کی خاصیت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«طَعَامُ طُعْمٍ إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ»

’یقیناً یہ بابرکت اور غذائیت سے بھرپور ہے۔‘

بیماری سے شفا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ، طَعَامُ طُعْمٍٍٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍٍ»

’یقیناً یہ عمدہ غذا اور بیماری سے شفا ہے۔‘[3]

زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے، وہ پورا ہوتا ہے: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

«مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ»

’زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے بھی پیا جائے، وہ مقصد حاصل ہوگا۔‘[4]

زمزم کا پانی سب سے قیمتی ہدیہ ہے: زمانۂ قدیم سے حجاج کرام زمزم کا پانی اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، «أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَحْمِلُهُ»

’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ زمزم کا پانی اپنے ساتھ لے جاتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔‘[5]

[1]۔ طبرانی فی الکبیر: 11167؛ صحیح الترغیب والترہیب: 1161۔

[2]۔ مسلم: 2473۔

[3]۔ مسلم: 2473۔

[4]۔ ابن ماجہ: 3062۔

[5]۔ ترمذی: 963۔