براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج سے پہلے عمرہ

باب کے صفحات

صحیح طریقے سے طواف کرنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کریں۔

10 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 9 ستمبر، 2026

۱۔ ہر قسم کی نجاست سے پاک ہو کر وضو کریں، پھر مسجد الحرام میں داخل ہو کر کعبہ شریف کی طرف بڑھیں۔[1]

اگر آپ اسی وقت طواف کا ارادہ رکھتے ہوں تو دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے بغیر طواف شروع کرنے کے لیے جائیں۔ کیونکہ بیت اللہ کا طواف ہی آپ کے لیے تحیۃ المسجد شمار ہوگا۔ اور جو شخص نماز یا کسی دوسرے مقصد سے مسجد حرام میں داخل ہو، وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لے، جیسا کہ دوسری مسجد میں داخل ہونے کے بعد پڑھنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد طواف کے لیے حجر اسود کی طرف جائیں۔ یاد رکھیں:

عمرہ کرنے والے یا حج تمتع کرنے والے کے لیے یہ طواف، طوافِ عمرہ ہے۔ حج قران اور حج افراد کرنے والے کے لیے یہ طوافِ قدوم یا آمد کا طواف ہے۔

محرم شخص دل میں طواف کی نیت کرکے طواف شروع کرے گا، کیونکہ نیت کا مقام دل ہی ہے۔ عمرہ کرنے والا یا حج تمتع کرنے والا طواف شروع کرنے سے عین پہلے تلبیہ پڑھنا بند کر دے گا۔

طواف کے لیے حجر اسود کے پاس پہنچنے کے بعد وہاں کے اعمال درج ذیل طریقے سے انجام دینے کی کوشش کریں۔

الف۔ اگر بھیڑ نہ ہو تو حجر اسود کے پاس جاکر اسے بوسہ دے کر طواف شروع کریں۔ حجر اسود کو بوسہ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود پر دونوں ہاتھ رکھیں۔ ’بسم اللہ، اللہ اکبر‘ کہہ کر نرمی سے بوسہ دیں۔[2] لیکن دل میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ حجر اسود نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کے پاس جاکر اسے بوسہ دیا اور فرمایا،

وَإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ.

’میں یقینی طور پر جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے۔ تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔‘[3]

حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت اللَّهُ أَكْبَرُ (اللہ اکبر) کہیں[4] یا بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ (بسم اللہ، اللہ اکبر) کہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح منقول ہے۔[5]

ب۔ اگر حجر اسود کو بوسہ دینا دشوار ہو تو دائیں ہاتھ سے اسے چھوئیں اور ہاتھ کے جس حصے سے چھوا ہو، اسے بوسہ دیں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھوا، پھر اسے بوسہ دیا اور فرمایا: ”جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، میں نے کبھی اسے ترک نہیں کیا۔“‘[6]

ج۔ اگر ہاتھ سے حجر اسود کو چھونا ممکن نہ ہو تو چھڑی سے اسے چھوئیں اور چھڑی کے جس حصے سے چھوا ہو، اسے بوسہ دیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ کی پشت پر بیٹھ کر طواف کیا اور آپ نے خم دار چھڑی سے حجر اسود کو چھوا۔‘[7]

د۔ موجودہ زمانے میں حج کے دوران حجر اسود کو بوسہ دینا اور چھونا، دونوں ہی انتہائی مشکل اور بہت سے لوگوں کے لیے دشوار ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں حجر اسود کے بالمقابل آکر کچھ فاصلے پر کھڑے ہوں، اس کی طرف رخ کریں، دایاں ہاتھ بلند کرکے اللَّهُ أَكْبَر (اللہ اکبر) یا بِسْمِ اللَّهِ َاللَّهُ أَكْبَر ’بسم اللہ، اللہ اکبر‘ (اللہ اکبر) کہہ کر اشارہ کریں۔ پہلے حجر اسود کے بالمقابل زمین پر ایک بھوری لکیر تھی، جو اب ہٹا دی گئی ہے۔ لہٰذا مسجد الحرام کے چھجے پر موجود سبز روشنی دیکھ کر معلوم کریں کہ آپ حجر اسود کے بالمقابل پہنچے ہیں یا نہیں۔ اور چونکہ ہاتھ سے حجر اسود کو چھونا ممکن نہیں ہوا، اس لیے ہاتھ کو بوسہ بھی نہ دیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کی پشت پر بیٹھ کر طواف کیا۔ جب آپ رکن، یعنی حجر اسود کے بالمقابل آئے تو اس کی طرف اشارہ کیا اور تکبیر کہی۔[8] دوسری روایت میں ہے: ’جب آپ حجر اسود کے پاس آئے تو اپنے ہاتھ میں موجود چیز سے اس کی طرف اشارہ کیا اور تکبیر کہی۔[9] پھر جب بھی اس کے بالمقابل آئے، ایسا ہی کیا۔‘ لہٰذا اگر چھونا ممکن نہ ہو تو حجر اسود کی طرف اشارہ کرکے تکبیر کہیں، ہاتھ کو بوسہ نہ دیں۔

ہ۔ اگر شدید بھیڑ کی وجہ سے پتھر کو بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا ممکن نہ ہو تو لوگوں کو تکلیف دے کر یہ کام کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس سے خشوع، یعنی عاجزی کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے اور طواف کا مقصد متاثر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اسی کو بنیاد بنا کر جھگڑا، بلکہ مار پیٹ تک شروع ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہما سمیت کئی صحابہ طواف کے آغاز میں کہتے تھے،[10]

اللَّهُمَّ إيمَانًا بِكَ وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ وَوَفَاءً بِعَهْدِكَ وَاتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ.

(اللّٰہم ایماناً بک، وتصدیقاً بکتابک، ووفاءً بعہدک، واتباعاً لسنۃ نبیک محمد۔)

’اے اللہ! آپ پر ایمان لاتے ہوئے، آپ کی کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے، آپ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور آپ کے نبی محمد کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے طواف شروع کرتا ہوں۔‘

لہٰذا اگر کوئی شخص صحابہ سے منقول ہونے کی وجہ سے طواف کے آغاز میں یہ دعا پڑھ لے تو یہ بھی بہتر ہے۔

۲۔ حجر اسود کو بوسہ دینے، چھونے یا اشارہ کرنے کے بعد کعبہ شریف کو اپنے بائیں جانب رکھ کر طواف شروع کریں۔ طواف کا اصل مقصد اللہ کی اطاعت اور اس کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرنا اور اسی کے حضور خود کو سپرد کرنا ہے۔ طواف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل میں عاجزی، انکساری اور فروتنی ظاہر ہوتی تھی۔ چہرے سے سپردگی کی کیفیت نمایاں ہوتی تھی۔ مردوں کے لیے اس طواف کے ہر چکر میں اضطباع اور پہلے تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں آیا ہے،

اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَكَبَّرَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ.

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا، حجر اسود کو بوسہ دیا، تکبیر کہی اور پہلے تین چکروں میں رمل کیا۔‘[11]

اضطباع یہ ہے کہ اوڑھی ہوئی چادر کا درمیانی حصہ دائیں بغل کے نیچے رکھ کر دایاں کندھا کھلا رکھا جائے اور چادر کے دونوں سرے بائیں کندھے پر رکھے جائیں۔

اور رمل یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے، کندھے ہلا کر قوت و شجاعت کے ساتھ تیزی سے چلا جائے۔ اگر کعبہ کے قریب رمل کرنا ممکن نہ ہو تو دور رہ کر ہی رمل کرنا چاہیے۔

۳۔ رکن یمانی، یعنی حجر اسود سے پہلے والے کونے کے بالمقابل پہنچیں تو ممکن ہونے کی صورت میں اسے دائیں ہاتھ سے چھوئیں۔[12] ہر چکر میں اس کے بالمقابل پہنچ کر، اگر ممکن ہو، ایسا ہی کریں۔

۴۔ حجر اسود اور رکن یمانی سے متعلق اعمال ہر چکر میں انجام دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ رکن یمانی سے حجر اسود تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے،

﴿رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ٢٠١ ﴾ [البقرة: ٢٠١]

(ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃً وفی الآخرۃ حسنۃً وقنا عذاب النار۔) [سورۃ البقرہ: ۲۰۱]

’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘[13] لہٰذا ان دونوں ارکان کے درمیان ہر چکر میں مذکورہ دعا پڑھنا سنت ہے۔

طواف کے باقی حصے میں کثرت سے دعا کریں۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھیں۔ قرآن کی تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جس زبان کو آپ اچھی طرح سمجھتے ہوں اور جس زبان میں آپ کے دل کی فریاد خوب صورت انداز میں ظاہر ہو سکے، اسی زبان میں دعا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں،

«إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْىُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّه»

’بیت اللہ کے طواف، صفا و مروہ کے درمیان سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا حکم اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔‘[14] دعا اور ذکر پست آواز میں کرنا شرعاً مطلوب ہے۔

۵۔ خانہ کعبہ کے قریب سے طواف کرنا افضل ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو دور سے طواف کریں، کیونکہ پوری مسجد حرام طواف کی جگہ ہے۔ سات چکر مکمل ہونے کے بعد دایاں کندھا ڈھانپ لیں، جسے پہلے کھلا رکھا تھا۔ یاد رکھیں کہ اضطباع کا حکم صرف طوافِ قدوم اور عمرے کے طواف میں ہے۔ کسی دوسرے طواف میں نہ اضطباع ہے اور نہ رمل۔

۶۔ طواف کے سات چکر مکمل کرکے مقام ابراہیم کی طرف بڑھیں،

﴿وَٱتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبۡرَٰهِ‍ۧمَ مُصَلّٗىۖ﴾ [البقرة: ١٢٥]

(واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ۔)

’مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔‘[15] مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھیں، چاہے دور ہی سے ہو۔ پھر اگر نماز کا ممنوع وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز ادا کریں۔[16]

اگر مقام ابراہیم کے پاس جگہ نہ ملے تو مسجد الحرام میں کسی بھی مقام پر، بلکہ اس کے باہر بھی یہ نماز پڑھی جا سکتی ہے۔[17] تاہم لوگوں کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔ راستوں اور گزرگاہوں میں جہاں تہاں نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مکروہ وقت ہو تو یہ دو رکعت نماز بعد میں ادا کر لیں۔ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔

۷۔ نماز مکمل کرنے کے بعد دوبارہ حجر اسود کے پاس آکر اسے دائیں ہاتھ سے چھوئیں۔ یہ سنت ہے۔ اگر چھونا ممکن نہ ہو تو اشارہ نہ کریں۔ حج کے زمانے میں ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،

«ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا»

’پھر واپس آکر رکن (حجر اسود) کو چھوا۔ اس کے بعد صفا کی طرف گئے۔‘[18]

۸۔ اس کے بعد زمزم کے پاس جانا، اس کا پانی پینا اور اسے سر پر ڈالنا سنت ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں،

«ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا، وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ».

’پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے پاس گئے، زمزم کا پانی پیا اور اسے اپنے سر پر ڈالا۔‘[19]

[1]۔ یاد رکھیں کہ کعبہ شریف کو دیکھتے وقت پڑھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مخصوص دعا منقول نہیں ہے۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ جب بیت اللہ کی طرف دیکھتے تو درج ذیل دعا پڑھتے تھے:

اَللّهُمَّ أنْتَ السَّلامُ وَمِنْكَ السَّلامُ فَحَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلامِ.

(اللّٰہم انت السلام ومنک السلام فحینا ربنا بالسلام۔) ’اے اللہ! آپ ہی سلامتی ہیں اور سلامتی آپ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ لہٰذا اے ہمارے رب! ہمیں سلامتی کے ساتھ خوش آمدید کہیے۔‘ دیکھیے: بیہقی، السنن الکبریٰ: ۵/۷۳؛ البانی، مناسک الحج والعمرۃ: ۱۹۔ لہٰذا اگر کوئی صحابی کی پیروی میں یہ دعا پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں۔

[2]۔ بخاری: ۳/۴۷۵۔ نیز اللہ کی تعظیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں، اگر ممکن ہو تو حجر اسود پر سجدہ بھی کر سکتے ہیں، جیسا کہ مختلف صحیح روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ دیکھیے: مسند الطیالسی: ۱/۲۱۵-۲۱۶۔

[3]۔ فتح الباری: ۳/۴۶۳۔

[4]۔ بخاری: ۳/۴۷۶۔

[5]۔ التلخیص الحبیر: ۲/۲۴۷۔

[6]۔ بخاری: ۱۶۰۶؛ مسلم: ۱۲۶۸۔

[7]۔ بخاری: ۱۶۰۸۔

[8]۔ بخاری: ۵۲۹۳۔

[9]۔ بخاری: ۱۶۳۲۔

[10]۔ طبرانی: ۵۸۴۳؛ ہیثمی، مجمع الزوائد: ۳/۲۴۰۔ [البتہ اس کی سند ضعیف ہے]

[11]۔ بخاری: ۷۹۵۱۔

[12]۔ رکن یمانی کو چھوتے وقت بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ (بسم اللہ، اللہ اکبر) کہنا بہتر ہے، کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ صحیح سند کے ساتھ منقول ہے۔ دیکھیے: بیہقی: ۵/۷۹؛ ابن حجر، تلخیص الحبیر: ۲/۲۴۷۔

[13]۔ ابو داؤد: ۱۸۹۲۔

[14]۔ ترمذی: ۹۰۲، جامع الاصول: ۱۵۰۵۔

[15]۔ البقرہ: ۱۲۵۔

[16]۔ اس نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ ’کافرون‘ - قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ - اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص -قُلْ هُوَ اللهُ أحَدٌ - پڑھنا سنت ہے۔ (ترمذی: ۸۶۹۔) ان دو رکعتوں کے ثواب کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں۔ مثلاً ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

وأما ركعتاك بعد الطواف كعتق رقبة من بني إسماعيل عليه السلام

’جب تم طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کرو گے تو یہ اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر شمار ہوگی۔‘ دیکھیے: صحیح الترغیب والترہیب: ۱۱۱۲۔

[17]۔ یہ نماز فقہ حنفی میں واجب اور دیگر مذاہب میں سنت ہے۔

[18]۔ مسند احمد: ۳/۳۹۴؛ مسلم: ۱۲۱۸ اور ۱۲۶۲۔

[19]۔ مسند احمد: ۳/۳۹۴؛ مسلم: ۱۲۱۸ اور ۱۲۶۲۔