براہ راست مواد پر جائیں

حج گائیڈ

حج سے پہلے عمرہ

باب کے صفحات

سعی

4 منٹ کا مطالعہآخری اپ ڈیٹ 9 ستمبر، 2026

صفا و مروہ کی سعی کی فضیلت

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ كَعِتْقِ سَبْعِيْنَ رَقَبَةً»

”جب تم صفا و مروہ کی سعی کرو گے تو یہ ستر غلام آزاد کرنے کا ثواب لائے گی۔“[1]

سعی کے اعمال درج ذیل طریقے کے مطابق صحیح طور پر ادا کریں:

۱۔ صفا پہاڑی کے قریب پہنچیں تو کہیں:

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ، أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ.

(اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ۔ اَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ۔)

”یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میں اس سے آغاز کرتا ہوں جس سے اللہ نے آغاز کیا ہے۔“[2]

۲۔ پھر صفا پہاڑی پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں[3] اور اللہ کی وحدانیت، بڑائی اور حمد کا اعلان کرتے ہوئے کہیں:

اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ اْلَحمْدُ يحيى ويميت وَهَوُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ.

(اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، یحیی ویمیت، وہو علی کل شیء قدیر، لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، انجز وعدہ، ونصر عبدہ، وہزم الاحزاب وحدہ۔)

”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے![4] اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اسی کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے۔ وہ زندگی اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکروں کو شکست دی۔“[5]

۳۔ دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کریں۔[6]

۴۔ مذکورہ دعا اور دنیا و آخرت کے لیے فائدہ مند کوئی بھی دعا حسبِ استطاعت تین مرتبہ پڑھیں۔ طریقہ یہ ہے: اوپر والی دعا ایک مرتبہ پڑھ کر اس کے ساتھ حسبِ استطاعت کوئی دوسری دعا پڑھیں۔ پھر دوبارہ وہی دعا پڑھ کر اس کے ساتھ کوئی دوسری دعا پڑھیں۔ اس طرح تین مرتبہ کریں۔“ کیونکہ حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے: ”پھر آپ نے اس کے درمیان دعا کی۔ اسی طرح تین مرتبہ کیا۔“[7] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے صفا و مروہ پر پڑھنے کی مختلف دعائیں منقول ہیں۔[8]

۵۔ صفا پہاڑی پر دعا ختم کرنے کے بعد مروہ کی طرف جائیں۔ جو دعائیں آپ کے دل میں آئیں اور آپ کو آسان محسوس ہوں، وہی پڑھیں۔ صفا سے اتر کر کچھ دور آگے بڑھتے ہی آپ اوپر اور دائیں بائیں سبز روشنیاں جلتی ہوئی دیکھیں گے۔ اسے بطنِ وادی (وادی کا نشیبی حصہ) کہا جاتا ہے۔ اس حصے میں مرد حاجی دوڑنے کی طرح تیز رفتاری سے چلیں گے۔ اگلی سبز روشنی کی علامت سامنے آنے پر چلنے کی رفتار معمول پر لے آئیں گے۔ البتہ خواتین اس حصے میں بھی معمول کی رفتار سے چلیں گی۔ دونوں سبز علامتوں کے درمیان چلتے وقت درج ذیل دعا پڑھیں:

«رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، إِنَّكَ أَنْت َالأَعَزُّ الأَكْرَمُ».

(رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَكْرَمُ۔)

”اے میرے رب! مجھے بخش دیجیے اور مجھ پر رحم فرمائیے۔ یقیناً آپ سب سے زیادہ طاقت ور اور معزز ہیں۔“[9]

۶۔ یہاں سے معمول کی رفتار سے چلتے ہوئے مروہ پہاڑی پر چڑھیں۔ مروہ پہاڑی کے قریب پہنچنے پر وہ آیت نہیں پڑھنی جو صفا پر پہنچنے سے پہلے پڑھی تھی۔

۷۔ مروہ پر چڑھنے کے بعد خانۂ کعبہ کی طرف منہ کرکے دونوں ہاتھ اٹھائیں اور اللہ کی وحدانیت، بڑائی اور حمد کے اعلان کے ساتھ صفا کی طرح یہاں بھی دعا کریں۔[10]

۸۔ مروہ سے اتر کر صفا کی طرف آتے ہوئے سبز روشنی کے قریب پہنچیں تو وہاں سے دوبارہ تیز رفتاری سے چلیں۔ اگلی سبز روشنی کے قریب پہنچنے پر چلنے کی رفتار معمول پر لے آئیں۔

۹۔ صفا پہاڑی پر پہنچ کر خانۂ کعبہ کی طرف منہ کرکے دونوں ہاتھ اٹھائیں اور پہلے کی طرح ذکر اور دعا کریں۔ صفا اور مروہ دونوں دعا کی قبولیت کے مقامات ہیں، اس لیے دونوں جگہ خصوصی طور پر دعا کرنے کی کوشش کریں۔

۱۰۔ اسی طریقے کے مطابق سعی کے باقی چکر بھی پورے کریں۔

[1]۔ صحیح الترغیب والترہیب: ۱۱۱۲۔

[2]۔ مسلم: ۱/۸۸۸۔

[3]۔ مسلم: ۱۲۱۸۔

[4]۔ نسائی: ۲/۶۲۴؛ مسند احمد: ۳/۳۸۸۔

[5]۔ نسائی: ۲/۲۲۴؛ مسلم: ۲/۲۲۲۔

[6]۔ ابو داؤد: ۱/۳۵۱۔

[7]۔ مسلم: ۲۱۳۷۔

[8]۔ مثال کے طور پر دیکھیے، بیہقی: ۵/۴۹-۵۰۔

[9]۔ ابن ابی شیبہ: ۴/۶۸؛ بیہقی: ۵/۹۵؛ طبرانی، الدعاء: ۸۷۰؛ البانی، حجۃ النبی، ص ۱۲۰۔

[10]۔ نسائی: ۴۷۹۲۔