مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت ہر شخص کو چاہیے کہ اللہ کی عظمت و کبریائی کو یاد کرے، دل کو نرم کرے، اور اس بات کو یاد رکھے کہ مکہ مکرمہ اللہ کے نزدیک کس قدر محترم اور باعظمت ہے۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران اس کی حرمت و عظمت کا پورا خیال رکھنے کی کوشش کرے۔ حج یا عمرہ کرنے والے کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد درج ذیل اعمال کرنا مستحب ہے۔
۱۔ کسی مناسب جگہ پر آرام کرنا، تاکہ طواف سے پہلے سفر کی تھکن دور ہو جائے اور جسم میں تازگی واپس آ جائے۔ اگر آرام نہ کر سکے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
«بَاتَ رسول الله صلى الله عليه وسلم بِذِي طُوًى حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ»
’نبی صلی اللہ علیہ وسلم (حج کے سفر میں) ذی طویٰ پہنچے اور وہاں رات گزاری۔ صبح ہونے کے بعد آپ مکہ میں داخل ہوئے۔‘[1] ابن عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے۔ صبح ہونے پر غسل کرتے۔ وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔[2] موجودہ زمانے میں مکہ میں حجاج کی قیام گاہ پر پہنچ کر غسل کر لیا جائے تو بھی یہ سنت ادا ہو جائے گی۔
۲۔ محرم کے لیے کسی بھی جانب سے مکہ میں داخل ہونے کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ».
’مکہ کی ہر گلی راستہ (داخلے کی جگہ) ہے۔‘[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاءِ معلّٰی کی جانب سے، جو اس وقت حجون نامی بلند مقام پر واقع ہے، ’کَداء‘ نامی راستے سے مکہ میں داخل ہوئے اور نشیبی مقام، یعنی ’کُدَی‘ نامی راستے سے باہر نکلے۔[4] لہٰذا اگر کسی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اسی طرح مکہ میں داخل ہونا اور وہاں سے نکلنا ممکن ہو تو یہ بہتر ہوگا۔
لیکن موجودہ دور میں آپ کو موٹر گاڑی کے ذریعے مکہ لے جایا جائے گا۔ آپ کو اپنی قیام گاہ تک پہنچنے کے لیے آسان راستے ہی سے جانا ہوگا۔ اس لیے جس جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تھے، اس جانب سے داخل ہونا آپ کے لیے ممکن نہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ آپ کی گاڑی سہولت کے مطابق جس راستے سے جائے گی، آپ اسی راستے سے جائیں گے۔ اپنی قیام گاہ پر سامان رکھ کر، آرام کرکے عمرے کی تیاری کریں گے۔
محرم کسی بھی وقت مکہ میں داخل ہو سکتا ہے۔ تاہم دن کے ابتدائی حصے میں داخل ہونا بہتر ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’ذی طویٰ میں رات گزاری۔ صبح ہوئی تو آپ مکہ میں داخل ہوئے۔‘[5]
[1]۔ بخاری: ۱۵۷۴؛ مسلم: ۱۲۵۹۔ (موجودہ زمانے میں جرول کے علاقے میں واقع زچگی کے ہسپتال کی جگہ کا نام ذی طویٰ تھا۔)
[2]۔ بخاری: ۳/۴۳۶؛ مسلم: ۲/۹۱۹۔
[3]۔ ابوداؤد: ۱۹۳۷۔
[4]۔ بخاری: ۱۵۷۶۔
[5]۔ سابقہ حوالہ۔