۱۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سعی صفا سے شروع ہو کر مروہ سے واپس صفا پہنچنے پر ایک چکر مکمل ہوتا ہے۔ یہ صریح غلطی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر ہے، اور مروہ سے واپس صفا آنے پر دو چکر مکمل ہوتے ہیں۔
۲۔ صفا پہاڑی پر چڑھ کر دونوں ہاتھ اٹھانا اور نماز کی تکبیر کی طرح کعبہ کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرنا۔
۳۔ صفا اور مروہ پر ہر مرتبہ چڑھتے اور اترتے وقت إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ [1] کی آیت تلاوت کرنا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت صرف پہلی مرتبہ صفا پر چڑھتے وقت پڑھی تھی۔
۴۔ سعی کے ہر چکر کے لیے مخصوص دعا مقرر کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی کوئی حدیث منقول نہیں ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ کوئی مقررہ دعا نہ پڑھی جائے، بلکہ قرآن و حدیث میں منقول کوئی بھی دعا کی جائے، یا اپنی زبان میں دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے جو دل چاہے مانگا جائے۔ یہی زیادہ قبولیت کے لائق اور سنت کے مطابق عمل ہے۔
۵۔ سعی میں اضطباع کرنا۔ صحیح یہ ہے کہ طوافِ قدوم کے علاوہ کسی اور جگہ اضطباع کا حکم نہیں ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔
۶۔ سعی مکمل کرنے کے لیے صفا و مروہ کی چوٹی پر چڑھنے کو شرط سمجھنا، حالانکہ یہ شرط نہیں ہے۔ صفا و مروہ دونوں پہاڑیوں کے درمیان کمزور لوگوں کی وہیل چیئر موڑنے کے لیے جو جگہ ہے، وہاں تک آنا جانا ہی کافی ہے۔
۷۔ طواف کی طرح سعی کے لیے بھی طہارت اور وضو کو شرط سمجھنا۔ سعی کے لیے طہارت اور وضو شرط نہیں، البتہ بہتر ہے۔
۸۔ یہ سمجھنا کہ ضرورت کے باوجود سعی کا تسلسل منقطع نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً تھکن دور کرنے کے لیے آرام، پانی پینے، رفع حاجت، نماز یا نمازِ جنازہ میں شرکت وغیرہ کی ضرورت کے باعث وقفہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست نہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ ان کاموں میں کوئی حرج نہیں۔
۹۔ یہ سمجھنا کہ طواف کے فوراً بعد سعی نہ کی جائے تو سعی صحیح نہیں ہوگی۔ سعی طواف کے بعد ہی کرنی ہے، لیکن اسے فوراً کرنا ضروری نہیں۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں طواف کے بعد حتی الامکان تاخیر کیے بغیر سعی کرنا ہی بہتر ہے۔
۱۰۔ نفل طواف کی طرح نفل سعی کرنا۔ کیونکہ سعی صرف حج سے متعلق ایک مخصوص عبادت ہے۔ نفل کے طور پر مستقل سعی کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ لہٰذا نفل سعی میں کوئی ثواب بھی نہیں۔
[1]۔ البقرہ: ۱۵۸۔