طواف کی فضیلت:
طواف کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ مثلاً:
اللہ تعالیٰ طواف کرنے والے کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھیں گے اور ایک گناہ معاف فرمائیں گے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
«مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ كَتَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ سَيِّئَةٍ».
’جو شخص اللہ کے گھر کا طواف کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھیں گے اور ایک گناہ معاف فرما دیں گے۔‘[1]
طواف کرنے والا بچے کی طرح بے گناہ ہو جاتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَيْتِ خَرَجْتَ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ».
’جب تم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا تو تم گناہوں سے اس طرح پاک ہو گئے جیسے آج ہی تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا ہو۔‘[2]
طواف کرنے والے کو غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
«مَنْ طَافَ سَبْعًا فَهُوَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ».
’جو شخص خانۂ کعبہ کے سات چکر طواف کرے گا، اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔‘[3]
فرشتے کی طرف سے طواف کرنے والے کے بے گناہ ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ، يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْكَ ثُمَّ يَقُولُ اعْمَلْ لِمَا تُسْتَقْبَلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى».
’اور جب تم بیت اللہ کا طواف (طوافِ افاضہ یا طوافِ وداع) کرو گے تو تم بے گناہ ہو جاؤ گے۔ ایک فرشتہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہے گا: آئندہ کے لیے (نیک) عمل کرو؛ تمہارے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔‘[4]
[1]. ترمذی 959؛ الحاکم: 1/489۔
[2]. مصنف عبدالرزاق: 5/16، حدیث نمبر 8830؛ المعجم الکبیر 12/425؛ صحیح الجامع: 1360۔
[3] سنن النسائی: 221/5۔ غلام آزاد کرنے کا ثواب دوسری احادیث میں بھی بیان ہوا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن غلام یا لونڈی کو آزاد کرے گا، یہ اس کے لیے جہنم سے آزادی کا سبب ہوگا۔ [ابو داؤد: 3453] دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے۔ [ترمذی: 1461]
[4]. صحیح الترغیب والترہیب: 1112۔