زمزم کا پانی قبلہ رخ ہو کر اللہ کا نام لے کر پئیں۔ طریقہ یہ ہے کہ تین سانسوں میں پیا جائے اور پیٹ بھر کر پیا جائے۔ پینے کے بعد اللہ کی حمد کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،
«إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَتَنَفَّسْ ثَلاَثًا، وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ، فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : إِنَّ آيَةَ مَا بَيْنَنَا، وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ، إِنَّهُمْ لاَ يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ»
’جب تم زمزم کا پانی پیو تو قبلہ رخ ہو جاؤ، اللہ کو یاد کرو اور تین مرتبہ سانس لو۔ اسے پیٹ بھر کر پیو اور فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد کرو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ منافق پیٹ بھر کر زمزم کا پانی نہیں پیتے۔‘[1]
ابن عباس رضی اللہ عنہ زمزم کا پانی پینے سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے،
اللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ.
’اے اللہ! میں آپ سے نفع بخش علم، کشادہ رزق اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔‘[2] پانی پینے کے بعد سر پر بھی کچھ پانی ڈالیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔[3]
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،
«ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا»
’پھر واپس آ کر رکن (حجرِ اسود) کو چھوا۔ اس کے بعد صفا کی طرف روانہ ہوئے۔‘[4]
[1]۔ ابن ماجہ: 3061۔
[2]۔ دارقطنی: 2738۔
[3]۔ مسند احمد 3/394۔
[4]۔ مسند احمد: 3/394؛ مسلم: 1218 اور 1262۔