۱۔ اگر عمرے کا کوئی رکن رہ جائے تو عمرہ ادا نہیں ہوگا۔ البتہ وہ رکن ادا کر لینے سے عمرہ ہو جائے گا۔
۲۔ اگر عمرے کا کوئی واجب رہ جائے تو اسے دوبارہ ادا کر لینے سے عمرہ ہو جائے گا، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو دم دے کر اس کی تلافی کی گنجائش ہے۔
۳۔ اگر کوئی شخص عمرے کی حالت میں جماع کرے اور یہ عمل بیت اللہ کے طواف سے پہلے ہوا ہو تو بالاتفاق اس کا عمرہ فاسد ہو جائے گا۔ اور اگر طواف کے بعد صفا و مروہ کی سعی سے پہلے ہو تو بھی اکثر علماء کے نزدیک اس کا عمرہ فاسد ہو جائے گا۔ تاہم اسے ہر حال میں اس فاسد عمرے کے اعمال جاری رکھنے ہوں گے۔ پھر اس کی قضا کرنی ہوگی اور ہدی ذبح کرنی ہوگی۔ اور اگر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد، سر کے بال کٹوانے یا منڈوانے سے پہلے جماع ہو تو اس کا عمرہ ادا ہو جائے گا، البتہ اسے فدیے کے طور پر ایک بکری ذبح کرنی ہوگی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔[1]
[1]۔ بیہقی: ۵/۱۲۷؛ اضواء البیان ۵/۳۸۹؛ الاستذکار ۱۲/۲۹۰۔