(۱) عرفات پہنچ کر مسجدِ نمرہ کے قریب قیام کرنا مستحب، یعنی افضل ہے۔ وہاں جگہ نہ ملے تو عرفات کی حدود کے اندر کسی بھی جگہ قیام کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں—(مسلم)۔ البتہ قریب ہی ’عُرنہ‘ نامی ایک وادی ہے۔ وہ عرفات کی حدود سے باہر ہے۔ لہٰذا وہاں نہ جائیں اور نہ وہاں قیام کریں۔
(۲) ظہر کا وقت ہونے پر امام صاحب خطبہ دیں گے۔ خطبے کے بعد ظہر ہی کے وقت میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں گے۔ دونوں نمازوں کے لیے اذان ایک بار دیں گے، لیکن اقامت دو بار کہیں گے۔ قصر کر کے پڑھیں گے، یعنی ظہر کی دو رکعتیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں پڑھیں گے۔ ظہر ہی کے وقت میں عصر پڑھ لیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ اور باہر سے آنے والے تمام حاجیوں کو ساتھ لے کر اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔ یہ سفر کی قصر نہیں، بلکہ حج کی قصر ہے۔ عرفات میں کوئی نفل یا سنت نماز نہ پڑھیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھی۔
(۳) اگر مسجدِ نمرہ نہ جا سکیں تو اپنے اپنے خیموں میں اوپر بیان کردہ طریقے کے مطابق جماعت کے ساتھ ظہر اور عصر کو ظہر کے اول وقت میں جمع کر کے، دو دو رکعت قصر کے ساتھ پڑھیں گے۔
(۴) میدانِ عرفات کی حدود کے بارے میں اطمینان کر کے لازماً عرفات کی حدود کے اندر قیام کرنا ہوگا۔ عرفات کی حدود کی نشان دہی کے لیے چاروں طرف بہت سے ستون نصب ہیں۔ ان سے باہر قیام کرنے پر حج نہیں ہوگا۔
(۵) سنت یہ ہے کہ کثرت سے دعا کریں، دعا کے وقت ہاتھ اٹھائیں، انتہائی عاجزی اختیار کریں، ذکر کریں، تسبیح پڑھیں، ’الحمد للہ‘ اور ’لا إله إلا الله‘ پڑھیں، توبہ کریں، رو رو کر گناہوں کی معافی مانگیں، اور والدین، بیوی، بیٹے بیٹیوں، دادا دادی، نانا نانی، عزیزوں اور رشتہ داروں کے لیے کثرت سے دعا کریں۔
اس کے علاوہ درج ذیل دعا زیادہ سے زیادہ پڑھنا افضل ہے:
لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهچ لاَ شَرِيكَ لَه لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اس کے علاوہ درج ذیل تسبیح کثرت سے پڑھیں۔
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهرِ وَسُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ
اس کے ساتھ ساتھ غروبِ آفتاب تک دیگر مسنون دعائیں بھی کرتے رہیں۔ ایسے کسی بھی کام سے بچنا چاہیے جس سے ثواب کم ہو جائے۔
(۶) جب سورج غروب ہو جائے اور آپ کو یقین ہو جائے کہ سورج ڈوب چکا ہے تو اطمینان کے ساتھ آہستہ آہستہ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں۔ اس وقت کثرت سے تلبیہ پڑھتے رہیں۔ خبردار! کسی بھی حالت میں غروبِ آفتاب سے پہلے میدانِ عرفات نہ چھوڑیں۔