دعا ایک خاص اہمیت اور عظمت والا عمل ہے۔ اللہ کے سامنے اپنی محتاجی اور عجز و انکساری کے اظہار کا ذریعہ دعا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا ہی کو اعلیٰ ترین عبادت قرار دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
«الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ»
’دعا ہی عبادت ہے۔‘[1] آپ نے مزید فرمایا:
«لَيْسَ شَيْء أَكرَمَ عَلى الله سُبْحَانَه ِمنَ الدعَاء.»
’اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں۔‘[2] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو، لَيْسَ بِإِثْمٍ وَلاَ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ ، إِلاَّ أَعْطَاهُ إِحْدَى ثَلاَثٍ : إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، وَإِمَّا أَنْ يَدْفَعَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا ، قَالَ : إِذًا نُكْثِرُ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْثَرُ».
’جب کوئی مسلمان ایسی دعا کرتا ہے جس میں نہ گناہ کی کوئی بات ہو اور نہ قطع رحمی کی، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور عطا فرماتا ہے: یا تو اسے اس کی دعا کا نتیجہ دنیا ہی میں فوراً عطا کر دیتا ہے، یا اسے اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتا ہے، یا دعا کے برابر گناہ اس سے دور کر دیتا ہے۔‘ ایک صحابی نے عرض کیا: پھر تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اللہ بھی بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔‘[3]
حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ آپ نے طواف کے دوران اپنے رب سے دعا کی۔[4] صفا اور مروہ پر کھڑے ہو کر دعا کی؛ عرفات میں اونٹ پر بیٹھ کر ہاتھ سینے تک اٹھائے اور جس طرح کوئی مسکین کھانا مانگتا ہے، اسی طرح طویل دعا اور گریہ و زاری کی؛ عرفات میں جس جگہ آپ نے وقوف کیا، وہاں ٹھہر کر سورج ڈھلنے کے بعد نماز ادا کرنے سے لے کر غروبِ آفتاب تک دعا کرتے رہے۔ مزدلفہ کے مشعرِ حرام میں فجر کی نماز کے بعد آسمان روشن ہونے تک طویل آہ و زاری اور مناجات میں مشغول رہے۔[5] ایامِ تشریق میں پہلے دو جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھائے اور دیر تک دعا کی۔[6]
ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
فَقَدْ تَضَمّنَتْ حَجّتُهُ صلى الله عليه وسلم سِتّ وَقَفَاتٍ لِلدّعَاءِ. الْمَوْقِفُ الْأَوّلُ عَلَى الصّفَا ، وَالثّانِي : عَلَى الْمَرْوَةِ ، وَالثّالِثُ بِعَرَفَةَ ، وَالرّابِعُ بِمُزْدَلِفَةَ ، وَالْخَامِسُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى ، وَالسّادِسُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثّانِيَةِ
’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حج چھ مقامات پر خصوصاً دعا سے معمور تھا: پہلا صفا پر، دوسرا مروہ پر، تیسرا عرفات میں، چوتھا مزدلفہ میں، پانچواں پہلے جمرے پر اور چھٹا دوسرے جمرے پر۔‘[7]
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کا محض ایک جزوی بیان ہے، حالاں کہ آپ مدینہ سے روانگی کے وقت سے وہاں واپسی تک کبھی اللہ کی حمد اور ذکر سے غافل نہیں ہوئے۔ اس دوران آپ کی زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی۔ آپ اللہ کی شان کے شایانِ شان کثرت سے اس کی حمد بیان کرتے تھے، مثلاً تلبیہ، تکبیر، تہلیل، تسبیح اور اللہ کی حمد کے ذریعے؛ کبھی بیٹھے ہوئے، کبھی کھڑے ہوئے اور کبھی چلتے ہوئے، غرض ہر حالت میں آپ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے تھے۔ حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف حالتوں کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت ہمارے سامنے بالکل واضح ہو جاتی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور اپنے رب کی حمد و ثنا کا جتنا بیان ملتا ہے، وہ غیر منقول حصے کے مقابلے میں بہت کم ہے؛ کیونکہ دعا بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک پوشیدہ راز ہے۔ ہر شخص تنہائی میں اپنے رب کے سامنے اپنی ضروریات کے بارے میں گہری آہ و زاری اور مناجات پیش کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حصہ ظاہر فرمایا، وہ صرف امت کے لیے نمونہ قائم کرنے کی خاطر تھا، تاکہ وہ آپ کی پیروی کر سکیں۔
دعا اور ذکر حج کے مقاصد اور بڑے اہداف میں سے ہیں۔ درج ذیل آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ملتا ہے:
﴿فَإِذَا قَضَيۡتُم مَّنَٰسِكَكُمۡ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَذِكۡرِكُمۡ ءَابَآءَكُمۡ أَوۡ أَشَدَّ ذِكۡرٗاۗ﴾ [البقرة: ٢٠٠]
’پھر جب تم اپنے حج کے اعمال پورے کر لو تو اللہ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو۔‘[8]
اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:
﴿ لِّيَشۡهَدُواْ مَنَٰفِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ ﴾ [الحج: ٢٨]
’تاکہ وہ ان امور سے بہرہ مند ہوں جو ان کے لیے نفع بخش ہیں اور اللہ کا نام یاد کریں۔‘[9] صرف یہی نہیں، بلکہ حج کے تمام اعمال اللہ کے ذکر ہی کی غرض سے مشروع کیے گئے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْىُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ».
’بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور کنکریاں مارنا اللہ کے ذکر کو قائم کرنے ہی کے لیے مشروع کیے گئے ہیں۔‘[10]
لہٰذا کامیاب وہی شخص ہے جو اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلے، کثرت سے دعا، ذکر اور گریہ و زاری کرے، اللہ کے سامنے اپنی محتاجی ظاہر کرے، اپنی ضرورت پیش کرے، اپنے مولا کے سامنے جھکے اور خود کو عاجز بنا کر پیش کرے۔ بیدار دل اور یکسوئی کے ساتھ جامع دعاؤں کے ذریعے اس سے مانگے۔
دعا کے آداب:
دعا کے متعدد آداب ہیں، جن کی پیروی کرنے سے دعا کی قبولیت کی امید کی جا سکتی ہے۔ ذیل میں دعا کے چند آداب بیان کیے جاتے ہیں: قبول قبول
۱۔ اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ ﴾ [غافر: ٦٠]
’تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘[11]
۲۔ باوضو ہو کر دعا کرنا۔ چونکہ دعا ایک عبادت ہے، اس لیے باوضو ہو کر کرنا بہتر ہے۔
ہتھیلیوں کو چہرے کی جانب کر کے دعا کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلاَ تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا».
’جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی ہتھیلیوں کے ذریعے مانگو، ہاتھوں کی پشت کے ذریعے نہیں۔‘[12] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں منقول ہے:
«كَانَ إِذَا دَعا جَعَلَ بَاطنَ كَفِّهِ إِلَى وَجْهِهِ».
’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے وقت اپنی ہتھیلیاں اپنے چہرے کی جانب رکھتے تھے۔‘[13] یہی حاجت اور عاجزی کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے، جس میں ایک محتاج کچھ پانے کی امید سے عطا کرنے والے کی طرف عاجزی کے ساتھ ہاتھ پھیلاتا ہے۔
۳۔ ہاتھ اٹھانا۔ ضرورت کے وقت اتنا اونچا اٹھانا کہ بغلوں کے نیچے کا حصہ نظر آنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«مَا مِنْ عَبْدٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَسْأَلُ اللهَ مَسْأَلَةً إِلاَّ أتَاهَا إِيَّاهُ».
’جو شخص اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ سے کوئی چیز مانگتا ہے، اللہ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے۔‘[14]
۴۔ اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھنا۔
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ایک شخص کو اس طرح دعا کرتے سنا کہ اس نے نہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اس شخص نے جلد بازی کی۔‘ پھر آپ نے فرمایا:
«إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصَلِّى عَلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ»
’جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام پڑھے، اس کے بعد جو چاہے مانگے۔‘[15] ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
«كُلُّ دُعاءٍ مَحْجُوبٌ حَتَّى يُصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ».
’ہر دعا اس وقت تک رکی رہتی ہے جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ نہ پڑھی جائے۔‘[16]
اپنے لیے اور اپنے عزیزوں کے لیے خیر کی دعا کرنا اور برائی یا نقصان کی دعا نہ کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«لاَ يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ».
’بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔‘[17] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:
«لاَ تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَلاَ تَدْعُوا عَلَى أَوْلاَدِكُمْ وَلاَ تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ».
’اپنے خلاف، اپنی اولاد کے خلاف اور اپنے اموال کے خلاف بددعا نہ کرو۔‘[18]
۵۔ دعا کی قبولیت کا پختہ یقین رکھتے ہوئے اللہ سے دعا کرنا۔
«اُدْعُوا اللهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ لا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لاهٍ».
’قبولیت کا پختہ یقین رکھتے ہوئے اللہ سے دعا کرو۔ جان لو کہ یقیناً اللہ غافل اور بے پروا دل سے نکلنے والی دعا قبول نہیں کرتا۔‘[19]
دعا میں حد سے تجاوز نہ کرنا۔ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
«سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِى الدُّعَاءِ».
’عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو دعا میں حد سے تجاوز کرے گی۔‘[20]
اور یہ حد سے تجاوز ایسی چیز مانگنا ہے جس کا ہونا ناممکن ہو، مثلاً نبی یا فرشتہ بننے کی دعا کرنا، یا جنت کے کسی متعین حصے کے حصول کی دعا کرنا۔
۶۔ عاجزی اور آہ و زاری کا اظہار کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ ﴾ [الاعراف: ٢٠٥]
’اور صبح و شام اپنے دل میں عجز و خوف کے ساتھ اور پست آواز میں اپنے رب کو یاد کرو۔‘[21]
۷۔ جامع معانی پر مشتمل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول الفاظ و جملے استعمال کرنا؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کردہ الفاظ و جملے جوامع، یعنی کامل اور جامع ہیں۔ ایک روایت میں آیا ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ.
’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع معانی والی دعائیں پسند کرتے اور دوسری دعائیں چھوڑ دیتے تھے۔‘[22]
۸۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور اس کی بلند و برتر صفات کا وسیلہ دے کر دعا کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ ﴾ [الاعراف: ١٨٠]
’اللہ ہی کے لیے خوب صورت نام ہیں، لہٰذا ان ناموں کے ذریعے اس سے دعا کرو۔‘[23]
۹۔ ایمان اور عملِ صالح، یعنی نیک اعمال کا وسیلہ دے کر دعا کرنا۔
الف۔ ایمان کا وسیلہ دے کر دعا کرنے کی مثال قرآنِ کریم میں مذکور ہے:
﴿ رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فََٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَئَِّاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ ١٩٣ ﴾ [ال عمران: ١٩٣]
’اے ہمارے رب! یقیناً ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکارتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، چنانچہ ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے، ہماری خطائیں ہم سے دور فرما اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت عطا فرما۔‘[24]
ب۔ عملِ صالح، یعنی نیک عمل کا وسیلہ دے کر دعا کرنے کی مثال حدیث میں مذکور ہے:
’تین افراد نے سفر کے دوران رات گزارنے کے لیے ایک غار میں پناہ لی۔ اچانک پہاڑ سے ایک چٹان لڑھک کر گری اور غار کا منہ بند ہو گیا۔ اس بے بسی کی حالت میں ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے نیک عمل کا وسیلہ دے کر دعا کی۔ ایک نے بوڑھے والدین کی خدمت، دوسرے نے حرام جنسی فعل سے خود کو بچانے اور تیسرے نے امانت کی صحیح حفاظت کا وسیلہ دے کر چٹان کی اس بڑی مصیبت سے نجات کے لیے اللہ سے دعا کی۔ ان کی دعا کے نتیجے میں چٹان ہٹ گئی اور وہ سب بحفاظت غار سے باہر نکل آئے۔‘[25]
۱۰۔ اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے دعا کرنا۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں جس دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو پکارا تھا (یعنی لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِين لا إلہ إلا أنت سبحانک إنی کنت من الظالمین۔ ’آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ پاک اور برتر ہیں۔ یقیناً میں ظالموں میں سے تھا۔‘) اگر کوئی بھی مسلمان اس دعا کے ذریعے مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرما لے گا۔‘[26]
۱۱۔ بلند آواز سے دعا نہ کرنا، بلکہ پست آواز میں دعا کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٥٥ ﴾ [الاعراف: ٥٥]
’اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے پکارو۔ یقیناً وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘[27] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا ، إِنَّهُ مَعَكُمْ ، إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ».
’اے لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو اور پست آواز میں دعا کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ یقیناً وہ اپنے علم کے ساتھ تمہارے پاس ہی ہے۔ وہ خوب سننے والا، قریب ہے۔‘[28]
۱۲۔ اللہ سے بار بار مانگنا؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كَانَ رسول الله صلى الله عليه وسلم يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا، وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا.
’نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے کلمات تین تین مرتبہ کہنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا پسند کرتے تھے۔‘[29]
۱۳۔ قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
اسْتَقْبَلَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم الْكَعْبَةَ فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، عَلَى شَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَأَبِى جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ . فَأَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى ، قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ ، وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا .
’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے، پھر قریش کے چند افراد کے خلاف بددعا کی۔ وہ شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ اور ابو جہل بن ہشام تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے انہیں مردہ حالت میں گرے ہوئے دیکھا۔ دھوپ نے ان کی حالت بدل دی تھی، کیونکہ وہ گرمی کا دن تھا۔‘[30]
[1]۔ ترمذی: ۲۹۶۹۔
[2]۔ صحیح ابن حبان: ۸۷۰۔
[3]۔ الادب المفرد: ۷۱۰۔
[4]۔ ابو داؤد: ۱۸۹۲۔
[5]۔ مسلم: ۱۲۱۸۔
[6]۔ بخاری: ۱۷۵۱۔
[7]۔ زاد المعاد: ۲/۲۶۳۔
[8]۔ بقرہ: ۲۰۰۔
[9]۔ حج: ۲۸۔
[10]۔ ابو داؤد: ۱۸۹۰۔
[11]۔ غافر: ۶۰۔
[12]۔ ابو داؤد: ۱۴۸۶۔
[13]۔ طبرانی: ۱۱/۱۲۲-۳۴۔
[14]۔ ترمذی: ۳۶۰۳۔
[15]۔ ابو داؤد: ۱۴۸۳۔
[16]۔ دیلمی: ۳/۴۷۹۱؛ صحیح الجامع: ۴۵۲۳۔
[17]۔ مسلم: ۷۱۱۲۔
[18]۔ مسلم: ۳۰۹۹۔
[19]۔ ترمذی: ۳۴۷۹۔
[20]۔ احمد: ۱/۱۷۲۔
[21]۔ اعراف: ۲۰۵۔
[22]۔ ابو داؤد: ۱۴۸۲۔
[23]۔ اعراف: ۱۸۰۔
[24]۔ آل عمران: ۱۹۳۔
[25]۔ بخاری: ۲۱۱۱۔
[26]۔ ترمذی: ۵۰۵۳؛ مستدرک حاکم: ۴۴۴۳۔
[27]۔ اعراف: ۵۵۔
[28]۔ بخاری: ۹۲۲۹؛ مسلم: ۲۷۰۴۔
[29]۔ مسند احمد: ۱/۳۹۴۔
[30]۔ بخاری: ۳۹۶۰؛ مسلم: ۱۷۹۴۔